میڈرڈ میں87سالہ خاتون کی بے دخلی نے ہنگامہ کھڑا کردیا،ہزاروں افراد سڑکوں پر

میڈرڈ (جانو ڈاٹ پی کے) اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 87 سالہ خاتون کرایہ دار کو کئی دہائیوں پرانے گھر سے بے دخل کیے جانے کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے کرایہ داروں کے تحفظ، دھوکہ دہی کے خلاف مؤثر قوانین اور متبادل رہائش فراہم کیے بغیر بے دخلی پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
Madrid: 300,000 march for housing rights and to protest callous eviction of 83 year old Maricarmen. Activists have now started a protest camp in Puerta del Sol. Anger against ruling PSOE – IU government. Shouts of "general strike". pic.twitter.com/XRoX5uM2Vl
— Jorge Martin ☭ (@marxistJorge) September 26, 2026
احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب 87 سالہ ماریکارمن اباسکل کو میڈرڈ کے پوش علاقے ریٹیرو میں واقع اس فلیٹ سے نکالا گیا جہاں وہ 1956 سے رہائش پذیر تھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان کے والد نے 1956 میں مکان کرائے پر لیا تھا اور والدین کے انتقال کے بعد اباسکل خود بھی وہاں کرایہ دار کی حیثیت سے رہتی رہیں۔
ماریکارمن اباسکل کو سٹریچر پر گھر سے باہر لایا گیا اور ایمبولینس منتقل کیا گیا تو احتجاج میں شریک افراد نے ان کا استقبال کیا اور نعرے لگائے۔
میڈرڈ ٹیننٹس یونین کے مطابق عمارت 2018 میں ایک نئے مالک نے خریدی تھی، جس کے بعد اباسکل کو فلیٹ خریدنے کا موقع بھی دیا گیا، تاہم وہ مطلوبہ قیمت ادا نہیں کرسکیں۔
رپورٹس کے مطابق نئے مالک نے ماہانہ کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر 2 ہزار 650 یورو کردیا، بعدازاں اسے کم کرکے 1 ہزار 650 یورو کیا گیا، تاہم ٹیننٹس یونین کا کہنا ہے کہ اباسکل اپنی پنشن سے یہ رقم بھی ادا کرنے کے قابل نہیں تھیں۔
خاتون کو گھر سے بے دخل کرنے کی تین سابقہ کوششیں عدالت روک چکی تھی، تاہم بعد میں ہونے والی بے دخلی اور اس معاملے کی میڈیا کوریج نے انہیں اسپین میں بڑھتے ہوئے رہائشی بحران کی علامت بنا دیا۔
احتجاج میں شریک نرس ڈورا گارشیا نے کہا کہ رہائش کا بحران معاشرے کے ہر طبقے اور ہر عمر کے افراد کو متاثر کررہا ہے اور لوگ مزید اس صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیونکہ رہائش بنیادی حق ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری فنڈز کے ذریعے گھروں کی خریداری سے عام لوگوں کے لیے رہائش مزید مشکل ہوتی جارہی ہے اور بے دخلیوں کا سب سے زیادہ اثر کمزور اور بزرگ افراد پر پڑ رہا ہے۔
مارچ کے اختتام پر مظاہرین میڈرڈ کے پوئرتا ڈیل سول چوک میں بیٹھ گئے، جہاں بعض افراد نے خیمے بھی نصب کرلیے، جس سے احتجاج کے طویل ہونے کے امکانات ظاہر ہوئے۔



