پوتن کا یوکرین سے مذاکرات کی بحالی پر آمادگی کا اظہار، روسی مفادات کو ترجیح دینے کا اعلان

سینٹ پیٹرزبرگ(ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، تاہم مذاکرات کی بحالی سمیت تمام فیصلے روسی فیڈریشن کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یوکرینی فریق نے استنبول میں جاری مذاکرات خود منقطع کیے تھے، تاہم روسی ریاستی دوما کے انتخابات سے تقریباً 10 روز سے 2 ہفتے قبل کیف کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
روسی صدر کے مطابق ماسکو نے انتخابات سے قبل مذاکرات کو مشکل قرار دیا تھا، تاہم انتخابات کے بعد مذاکراتی رابطے بحال کرنے کے لیے روس تیار تھا۔
پوتن نے حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 19 اور 20 ستمبر کی درمیانی شب ماسکو کے فضائی علاقے کی جانب ایک ہزار 600 سے زائد ڈرونز بھیجے گئے، جبکہ پولنگ اسٹیشنوں اور علاقائی انتخابی کمیشن کے عہدیداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
روسی صدر نے کہا کہ جون سے روس کی آئل ریفائنریوں پر حملے کیے گئے، جبکہ بحیرہ اسود کے ساحل پر روسی ناکہ بندی کی کوشش بھی کی گئی۔ ان کے بقول ان کارروائیوں کے نتیجے میں روسی اور غیر ملکی پرچم بردار 100 سے زائد بحری جہازوں کو نقصان پہنچا، تاہم روس نے نقصانات کا ازالہ کرلیا۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس نے ان کارروائیوں کے بعد مختلف محاذوں پر جوابی اقدامات کیے، جس کے بعد یوکرینی فریق کی جانب سے توانائی کے شعبے، فضائی حملوں اور دیگر محاذوں پر جنگ بندی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نام نہاد مصالحتی اقدامات اور مذاکرات کی بحالی کی تجاویز موجود ہیں اور ان پر بات ہوسکتی ہے، تاہم حالیہ واقعات کے بعد ماسکو اپنے آئندہ اقدامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا۔
روسی صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ممکنہ بحالی سمیت تمام فیصلے روسی فیڈریشن کے مفادات کے مطابق کیے جائیں گے۔
یورپ میں روس مخالف بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ بعض یورپی حلقے صورتحال کو دانستہ طور پر ہوا دے رہے ہیں اور روسی حملے کے خدشے کو بنیاد بنا کر فوجی تیاریوں کی بات کر رہے ہیں۔
روسی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ روس یورپ کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی تیاری نہیں کر رہا اور نہ ہی ماسکو کے پاس ایسا کوئی منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق روس کے پاس یورپ کے ساتھ صورتحال خراب کرنے کی کوئی حقیقی وجہ یا محرک موجود نہیں۔
پوتن نے کہا کہ روس بالٹک ممالک میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے حقوق سے متعلق صورتحال سے آگاہ ہے اور اپنے ہم وطنوں کے حقوق کے لیے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے یورپ کے بعض حلقوں پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ماسکو کی ترقی اور پیش رفت کو محدود کیا جاسکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال پر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس امریکا اور چین کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ روسی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
پوتن کے مطابق روس اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات اس وقت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم 240 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان مستقبل میں تعاون کے کئی اہم شعبے موجود ہیں، اس لیے ماسکو امریکا اور چین کے درمیان ہونے والے ہر مثبت نوعیت کے معاہدے کا خیرمقدم کرے گا۔



