حرمین شریفین پرحملہ ریڈ لائن ہے،پاکستان کاپانی روکنےیاموڑنےکی کوشش اعلانِ جنگ تصورہوگی،وزیراعظم کااقوام متحدہ میں خطاب

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔

اپنے خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ایوان سے چوتھی بار خطاب میرے لیے باعث اعزاز ہے۔

وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے، وزیراعظم نے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا کہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ‘۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سعودی عرب ، ترکیے، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوشش پر ممنون ہیں۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امن دشمن کارروائیوں میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے، میزائل، ڈرونز اور گولیوں کے شور کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔

وزیر اعظم نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم وغصہ پیدا کیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا مشترکہ دفاعی معاہدہ امن و استحکام کا ضامن ہے،تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ معاہد خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہمارا اجتماعی عزم ہے۔

معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔  پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی  قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، آٹھ دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہےہیں، اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کشمیری عوام کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کشمیری بھائی بہنوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کئی نسلوں سے فلسطینی عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہرکرتی ہے

وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو دنیا میں کہیں بھی پیدا ہونے والے بچوں کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پرمشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت  کی۔

دہشتگردی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، پاکستان نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طورپردہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالرکا معاشی نقصان برداشت کیا، ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے، امن پسند دنیا پاکستان کی لازوال قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اورفتنہ الہندوستان بی ایل اے افغان سرزمین کوپاکستان کیخلاف استعمال کررہے ہیں، افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

مزید خبریں

Back to top button