جنوبی لبنان میں اسرائیل کا نیا منصوبہ، طویل فوجی قیام کی تیاری

بیروت (جانو ڈاٹ پی کے) جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے علاقے میں اپنی موجودگی کے ایک نئے مرحلے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج جنوبی لبنان کے ایک حصے میں اپنی پوزیشنیں ازسرنو منظم کرنے اور طویل عرصے تک موجود رہنے کے لیے نئی اگلی دفاعی لائن قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق فوج نام نہاد ’’یلو زون‘‘ میں اپنی تعیناتی کو ازسرنو ترتیب دے گی، جس میں بعض مقامات سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے اور انہیں دیگر پوزیشنوں پر منتقل کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج علاقے میں طویل مدتی موجودگی کے لیے نئی فوجی پوزیشنیں قائم اور مکمل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے ارکان قرار دیے جانے والے اہداف کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رکھنے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیل نے اپریل میں جنوبی لبنان میں ایک علاقے کو ’’یلو لائن‘‘ قرار دیا تھا اور سرحد سے آگے بعض مقامات پر فوجی پوزیشنیں برقرار رکھی ہیں۔ اسرائیلی فوج اس علاقے کو سکیورٹی بفر زون قرار دیتی ہے، جبکہ لبنان اسرائیلی فوج کی اپنی سرزمین پر موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے انخلا کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکا کی ثالثی میں 26 جون کو واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے میں مرحلہ وار اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقے سے انخلا، مخصوص علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کو منتقل کرنے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا طریقہ کار شامل کیا گیا تھا۔
تاہم معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی اور حملوں کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان (UNIFIL) کے مطابق جنوبی لبنان میں پائیدار امن تاحال مکمل طور پر قائم نہیں ہوسکا، جبکہ اسرائیلی زیرِکنٹرول علاقوں میں بعض مقامات کا کنٹرول لبنانی فورسز کو منتقل کرنا بھی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں، زخمی اور بے گھر ہونے والے افراد سامنے آئے ہیں، جبکہ بیروت کی جانب سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور ملکی خودمختاری کی بحالی پر زور دیا جا رہا ہے۔



