اڈانی کے پاور پلانٹ کے لیے 10 ہزار مسلمان بے گھر؟ مودی حکومت پر سنگین سوالات

مسلمانوں کے گھر مسمار، اسی زمین پر اڈانی کے پاور پلانٹ کی بنیاد، آسام میں بڑا تنازع کھڑا ہوگیا

گوہاٹی (جانو ڈاٹ پی کے) بھارتی ریاست آسام میں تقریباً 10 ہزار مسلمانوں کی بے دخلی کے بعد اسی زمین پر ارب پتی تاجر گوتم اڈانی کی کمپنی کے بڑے پاور منصوبے کی بنیاد رکھے جانے سے نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام کے وزیراعلیٰ نے ضلع دھوبری میں اڈانی پاور لمیٹڈ کے 3 ہزار 200 میگاواٹ کے تھرمل پاور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں جولائی 2025 میں تقریباً 1400 مسلم خاندانوں کے گھر مسمار کیے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندان اس علاقے میں کئی دہائیوں سے آباد تھے۔ گھروں کی مسماری کے نتیجے میں تقریباً 10 ہزار افراد بے گھر ہوئے، جبکہ متاثرین کا مؤقف ہے کہ انہیں زبردستی گھروں سے نکالا گیا اور مناسب بحالی یا دوبارہ آبادکاری کا انتظام بھی نہیں کیا گیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق یہ زمین ابتدا میں آسام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کو الاٹ کی گئی تھی، جس کے بعد اسے اڈانی پاور کے منصوبے کے لیے منتقل کیا گیا۔

معاملہ اس وقت مزید متنازع ہوگیا جب رپورٹ کے مطابق اڈانی پاور کی جانب سے ماحولیاتی منظوری کے لیے جمع کرائی گئی درخواست میں منصوبے کی جگہ پر کسی آبادی کی موجودگی سے انکار کیا گیا اور بحالی یا دوبارہ آبادکاری سے متعلق کوئی دعویٰ موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔

دوسری جانب متاثرہ مسلم خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کی مسماری کے بعد انہیں بے گھر چھوڑ دیا گیا۔ انسانی حقوق اور بے دخلی کے معاملے پر بھی اس اقدام سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یوں ہزاروں افراد کی بے دخلی کے بعد اسی اراضی پر اڈانی پاور کے بڑے منصوبے کا آغاز آسام میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک نئے تنازع کا باعث بن گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button