وفاقی پولیس کے افسران کے این سی سی آئی اے میں تبادلوں کی وجوہات سامنے آگئیں

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی پولیس کے افسران اور اہلکاروں کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں تبادلوں کی وجوہات سامنے آگئی ہیں، رپورٹ کے مطابق ادارہ گزشتہ تین سال کے دوران خاطرخواہ نتائج دینے میں ناکام رہا۔

رپورٹ کے مطابق 2024ء سے 2026ء کے دوران این سی سی آئی اے کو مجموعی طور پر 3 لاکھ 91 ہزار 693 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 2 لاکھ 88 ہزار 770 شکایات کی تصدیق کی گئی، جبکہ 66 ہزار 699 شکایات کو باقاعدہ انکوائری میں تبدیل کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 4 ہزار 850 مقدمات درج کیے گئے اور 5 ہزار 762 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تاہم گرفتار ملزمان میں سے صرف 109 کو سزائیں ہو سکیں۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان سے 2 ارب 62 کروڑ 55 لاکھ 80 ہزار روپے کی برآمدگی بھی کی گئی۔

وفاقی پولیس افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں کے بعد این سی سی آئی اے میں نئی اصلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ سائبر جرائم کی تحقیقات کیلئے جدید ڈیجیٹل فرانزک اور سائبر انٹیلیجنس ٹولز استعمال کیے جائیں گے۔

خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے نئے سائبر کرائم رپورٹنگ مراکز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی اے، مالیاتی اداروں اور مقامی و عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطہ مزید مؤثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button