سیرانی، کڈھن روڈ کی تعمیر نہ ہونے پر پولیو مہم کا بائیکاٹ، ویکسینیشن ٹیمیں واپس

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ پی کے) سیرانی، کڈھن روڈ کی طویل عرصے سے زیر التوا تعمیر و بحالی کے خلاف ساحلی علاقوں کے مکینوں نے ایک بار پھر انسدادِ پولیو مہم کا بائیکاٹ کردیا، جس کے باعث پولیو ویکسینیشن ٹیموں اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو واپس لوٹنا پڑا۔
مقامی افراد کے مطابق سیرانی، بھڈمی، شہید دودو سومرو، لواری شریف اور ملحقہ دیہات کے رہائشیوں نے پولیو ٹیموں کو بچوں کو قطرے پلانے کی اجازت نہیں دی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی سڑک کی تعمیر کے مطالبے پر پولیو مہم کا بائیکاٹ کیا گیا تھا، تاہم صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلد تعمیر کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کردیا گیا تھا۔
مقامی افراد کے مطابق یقین دہانی کے باوجود سڑک کی تعمیر کا عملی کام شروع نہ ہونے پر انہیں دوبارہ پولیو مہم کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے احتجاج کرنے والے دیہاتیوں سے مذاکرات کرکے انہیں پولیو مہم میں تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔
بعد ازاں احتجاج کرنے والے افراد سیرانی پریس کلب پہنچے، جہاں انہوں نے مظاہرہ کیا اور پریس کانفرنس کے دوران اپنے مطالبات پیش کیے۔ حاجی قادر بخش گھرانو، عطا محمد چانگ، حاجی اصغر گھرانو، معشوق علی ملاح اور دیگر کا کہنا تھا کہ سیرانی، کڈھن روڈ کی خستہ حالی کے باعث ساحلی علاقوں کے عوام تقریباً دو سال سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق سڑک کی خراب حالت سے مریضوں، زرعی پیداوار اور اسکول جانے والے بچوں کی آمدورفت متاثر ہے، جبکہ راستے میں موجود متعدد پل اور پلّیاں بھی خستہ حالی کے باعث منہدم ہوچکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں سڑک کی خراب حالت کے باعث ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں کی رسائی بھی متاثر ہوتی ہے، جبکہ آبپاشی نہروں پر قائم پلوں کے منہدم ہونے سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ بھی متاثر ہوا ہے۔ خواتین کو علاج کے لیے اسپتال پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقامی افراد نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سیرانی، کڈھن روڈ کی فوری تعمیر و بحالی شروع کی جائے۔ ان کے مطابق سڑک سے منسلک 50 سے زائد دیہات کے مکینوں نے فیصلہ کیا ہے کہ مطالبہ پورا ہونے تک موجودہ پولیو مہم کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔



