میر رضا کیس: علی شاز کا جوڈیشل کمیشن میں بیان، 25 لاکھ کی سرمایہ کاری کی پیشکش کا انکشاف

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں علی شاز نے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا، جس میں انہوں نے میر رضا کی جانب سے 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی پیشکش سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔

علی شاز کے مطابق انہیں 8 دسمبر 2025 کو واٹس ایپ پر ملاقات کے لیے پیغام موصول ہوا، جس کے بعد 9 دسمبر کی رات تقریباً 3 بجے میر رضا ان کے دفتر آئے۔

انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے خام مال کی خریداری کے لیے 25 لاکھ روپے سرمایہ کاری کرنے کی درخواست کی اور اس رقم کے عوض 5 لاکھ روپے منافع دینے کی پیشکش کی۔ علی شاز کے مطابق سیکیورٹی کے طور پر 10،10 لاکھ روپے مالیت کے تین چیکس دینے کی بات بھی کی گئی تھی۔

علی شاز نے بتایا کہ انہوں نے اگلے روز پیغام کے ذریعے سرمایہ کاری کی پیشکش مسترد کردی، تاہم اس کے بعد میر رضا کی جانب سے مزید پیغام اور متعدد فون کالز موصول ہوئیں، جن کا انہوں نے جواب نہیں دیا۔

کمیشن کے استفسار پر علی شاز نے میر رضا سے اپنے تعلق کے بارے میں بتایا کہ وہ انہیں 2016 سے 2018 کے دوران پبلک اسپیکنگ ایونٹس کے ذریعے جانتے تھے اور اس کے بعد بھی چند مواقع پر ملاقات ہوئی۔

علی شاز کے مطابق ان کی ایک آئی ٹی کمپنی ہے اور وہ طویل مدتی بنیادوں پر اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ماضی میں ان کا ایک ریسٹورنٹ بھی تھا، تاہم حالیہ عرصے میں انہوں نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

دوران سماعت پولیس سے رابطے کے معاملے پر بھی سوالات کیے گئے۔ علی شاز نے بتایا کہ 8 یا 9 اگست کو ان کی اے ایس پی ندا سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ان کے بھائی پنجاب پولیس میں ہیں اور اے ایس پی ندا ان کے بھائی کے ساتھ شیخوپورہ میں زیر تربیت رہ چکی تھیں۔

علی شاز نے بتایا کہ میر رضا کے قتل کی اطلاع انہوں نے اپنے بھائی کو دی، جس پر بھائی نے انہیں اے ایس پی ندا سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق انہوں نے اے ایس پی ندا کو ایک آڈیو بھی شیئر کی تھی۔

کمیشن نے سوال اٹھایا کہ جب علی شاز نہ گواہ تھے اور نہ ملزم تو انہیں پولیس افسر سے رابطے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس موقع پر جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ مذکورہ آڈیو 6 اگست سے میڈیا پر نشر ہو رہی تھی، جبکہ علی شاز کے مطابق انہوں نے یہ آڈیو 8 اگست کو اے ایس پی ندا کو بھیجی۔

علی شاز نے کہا کہ ممکن ہے ان کی اے ایس پی ندا سے ملاقات اس سے پہلے ہوئی ہو، تاہم ان کے پاس ملاقات یا گفتگو کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

کمیشن نے آڈیو اور پولیس سے رابطے سے متعلق مزید وضاحت طلب کی جبکہ کارروائی کے دوران کمیشن کی جانب سے کیس کی سماعت مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہونے کا بھی عندیہ دیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس میں مزید افراد کے بیانات اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button