گرین لینڈ کی خودمختاری متاثر نہیں ہوگی، امریکا سے معاہدہ سکیورٹی کیلئے اہم ہے، ڈنمارک

کوپن ہیگن(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈنمارک اور گرین لینڈ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے گرین لینڈ کی خودمختاری متاثر نہیں ہوگی، جبکہ مجوزہ معاہدے کو آرکٹک خطے اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط بنانے سے جوڑا گیا ہے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا ہے کہ اگلا ہفتہ گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکا کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال ایک ایسے معاہدے میں تبدیل ہوسکتی ہے جس سے آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سلامتی کو تقویت ملے گی اور نیٹو و یورپ کی مشترکہ سکیورٹی بھی مضبوط ہوگی۔
لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ڈنمارک کی مقرر کردہ ریڈ لائنز کا احترام برقرار رکھا جائے گا۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدہ امریکا کو آرکٹک جزیرے کی سلامتی پر مستقل کنٹرول فراہم کرے گا۔
امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافے سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا کو جزیرے پر اہم فوجی تنصیبات اور اپنی موجودگی بڑھانے کی اجازت دی جائے گی۔
توقع ہے کہ معاہدے پر آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط کیے جائیں گے۔



