عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی فائل گمشدگی کیس میں سزا پانے والے عدالتی اہلکار محمد خالد رشید کو 15 سال بعد بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا اور جرمانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے محمد خالد رشید کی اپیل منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور یہ مقدمہ ایسے کیس کی مثال ہے جس میں جرم ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ ثبوت موجود نہیں۔

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے لیے صرف کسی فعل کا سرزد ہونا کافی نہیں بلکہ جرم کے لیے مجرمانہ نیت کا ثابت ہونا بھی ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق مجرمانہ نیت فوجداری جرم کا لازمی جزو ہے۔

فیصلے کے مطابق محمد خالد رشید کے خلاف قصور پولیس نے 12 مارچ 2011 کو مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2018 میں اسے دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف محمد خالد رشید نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری میں محمد خالد رشید کو بدعنوانی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا بلکہ غفلت اور نااہلی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ عدالت کے مطابق محکمانہ انکوائری رپورٹ استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرنے کے بجائے اسے کمزور کرتی ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے جن محکمانہ دستاویزات پر انحصار کیا، وہ قانونی طور پر ثابت ہی نہیں کی گئیں۔ محکمانہ انکوائری رپورٹ کے مصنفین بھی ٹرائل کے دوران بطور گواہ پیش نہیں ہوئے۔

فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزم کے مؤقف کی بھی مؤثر انداز میں تفتیش نہیں کی اور بظاہر پہلے ہی اسے قصوروار سمجھ کر کارروائی آگے بڑھائی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مبینہ طور پر گمشدہ عدالتی فائل محمد خالد رشید کے قبضے سے برآمد نہیں ہوئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم قانونی شہادت سے ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

عدالت نے محمد خالد رشید کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے مقدمے کے الزام سے بری کردیا۔ فیصلے میں فوجداری مقدمات میں مجرمانہ نیت اور جرم کو قانونی شہادت کے ذریعے ثابت کرنے سے متعلق اہم اصول بھی واضح کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button