لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت پانے والے محمد فرحان کو بری کردیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے محمد فرحان کو بری کرتے ہوئے پھانسی کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس امیر عجم ملک پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے محمد فرحان کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر 19 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہی، جبکہ مقدمے میں پیش کیے گئے گواہوں کے بیانات بھی قابل اعتبار نہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق محمد فرحان کے خلاف محمد امجد کو آہنی راڈ سے مبینہ طور پر قتل کرنے کا مقدمہ 24 ستمبر 2022 کو تھانہ نشاط آباد، فیصل آباد میں درج کیا گیا تھا۔ سیشن جج فیصل آباد نے 30 مارچ 2023 کو محمد فرحان کو سزائے موت سنائی تھی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے علاوہ مقدمے کے ریکارڈ میں بھی تضادات موجود ہیں۔ مقتول کے بیٹے اور بھائی کی گواہی بھی مشکوک قرار دی گئی، جبکہ گواہ فیکٹری میں اپنی موجودگی کی قابل قبول وجہ ثابت نہیں کرسکے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کاغذات جمع کرانے میں تاخیر کی بھی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔
فیصلے کے مطابق مقدمے میں پیش کی گئی یو ایس بی کو بھی عدالت نے ناقابل اعتبار قرار دیا، جبکہ پراسیکیوشن مبینہ قتل کی وجہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہی۔
لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کے تمام شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد محمد فرحان کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر جیل سے رہا کردیا جائے۔



