کیوبا میں ایک بار پھر ملک گیر بلیک آؤٹ، بجلی کے ساتھ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر

ہوانا (ویب ڈیسک) کیوبا کا قومی بجلی کا نظام ایک بار پھر مکمل طور پر بیٹھ گیا، جس کے باعث ملک بھر میں تاریکی چھا گئی۔ بجلی کی طویل بندش کے خدشے کے پیش نظر امریکی سفارتخانے نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کردی۔
فاکس نیوز کے مطابق کیوبا میں ہونے والے ملک گیر بلیک آؤٹ کو امریکی سفارتخانے نے ملک کے بجلی کے نظام کی سنگین صورتحال قرار دیا ہے، جبکہ کیوبا کے سرکاری میڈیا کے مطابق بجلی کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے بجلی کی مکمل بحالی کا حتمی وقت نہیں بتایا۔
امریکی سفارتخانے نے کیوبا میں موجود امریکی شہریوں اور وہاں سفر کا ارادہ رکھنے والے افراد کو موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی کا مشورہ دیا ہے۔ سفارتخانے کے مطابق بجلی کی بندش کے باعث موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سفارتخانے کا کہنا ہے کہ کیوبا کا بجلی کا نظام مسلسل غیر مستحکم ہو رہا ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک بھر میں متعدد مرتبہ بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش ہوئی۔ روزانہ کی بنیاد پر شیڈول لوڈشیڈنگ کے علاوہ غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ان واقعات کی تعداد اور دورانیے میں اضافہ ہوا ہے۔
کیوبا کی وزارت توانائی نے بھی ملک گیر بجلی کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے۔
کیوبا اس وقت شدید توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ ایندھن کی قلت، پرانے اور بوسیدہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور امریکی پابندیوں سمیت مختلف عوامل کے باعث ملک کا بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیوبا میں گزشتہ ماہ بھی ملک گیر بلیک آؤٹ ہوا تھا، جبکہ جمعہ کو ہونے والی بجلی کی بندش رواں سال کا ساتواں قومی پاور بریک ڈاؤن قرار دی جا رہی ہے۔ مکمل بلیک آؤٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار بجلی بند کی جاتی ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔



