میناب اسکول حملے نے عالمی توجہ حاصل کرلی، امریکا کی ذمہ داری سے متعلق تحقیقات سامنے آگئیں

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران جنگ کے دوران شہری اہداف پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں امریکا کے خلاف جنگی جرائم کے سنگین الزامات سامنے آگئے۔ میناب میں اسکول اور لامرد میں کھیلوں کے مرکز پر حملوں کو تحقیقات میں خاص طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

تحقیقاتی مواد کے مطابق میناب کا شاجارہ طیبہ پرائمری اسکول ایک شہری عمارت تھا اور اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں یہ بھی درج ہے کہ حملے کے حوالے سے امریکی ذمہ داری اور پرانی یا غلط انٹیلی جنس سے متعلق رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

اقوام متحدہ کے متعلقہ مواد میں اسکول پر حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولِ امتیاز سے متعلق سنگین معاملہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی حملے کی تحقیقات اور ممکنہ جنگی جرم کے طور پر جائزے کا مطالبہ کیا تھا۔

لامرد کے کھیلوں کے مرکز پر حملے میں بھی شہری ہلاکتوں اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ نے جنگ کے دوران شہریوں، اسکولوں اور دیگر شہری تنصیبات پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی پر زور دیا ہے۔

ایران نے اقوام متحدہ کے فورمز پر امریکا اور اسرائیل پر شہریوں اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ایسے الزامات اور ان کی قانونی ذمہ داری کے حتمی تعین میں متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کی حیثیت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button