تھرپارکر کے ونگو موڑ میں سرعام مبینہ منشیات فروشی، سی آئی اے پولیس کی کارروائی کے بعد 22 افراد کے خلاف مقدمہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کی تحصیل کلوئی کے شہر ونگو موڑ میں سی آئی اے پولیس نے مبینہ منشیات فروش کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سفینہ گٹکا کے 20 پیکٹ برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد پولیس پارٹی پر حملے اور اہلکاروں سے ہاتھا پائی کے الزام میں 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ سی آئی اے تھرپارکر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پولیس ٹیم 16 ستمبر 2026 کو منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں ونگو موڑ پہنچی، جہاں اکرم ولد اسماعیل ہالو سے 20 پیکٹ سفینہ گٹکا برآمد ہونے پر اسے گرفتار کیا گیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ کلوئی میں ایف آئی آر نمبر 42/2026، سندھ گٹکا و مین پوری ایکٹ کی دفعہ 8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کے رشتہ داروں اور دیگر افراد نے سی آئی اے تھرپارکر کی موبائل پر حملہ کیا اور پولیس پارٹی کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ واقعے کے دوران پولیس کانسٹیبل لیاقت بجیر اور چندر میگھواڑ زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق حملے میں ملوث افراد کے خلاف تھانہ کلوئی میں ایف آئی آر نمبر 42/2026 کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 353، 324، 224، 225، 147، 148، 149، 506(ii)، 427 اور 504 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اکرم ہالو ولد اسماعیل، پرویز ولد کھبڑ، عطاءاللہ ولد کھبڑ، ذوالفقار ولد گجو، عبدالخالق ولد ابراہیم، کرم ولد محمد اسماعیل، یونس ولد محمد، منظور ولد عبدالکریم، میر ولد محمد، دودو ولد ابراہیم، اسماعیل ولد پریکو، عبدالغنی ولد محمد موسیٰ، عظیم ولد موسیٰ، رمضان ولد الہورايو، صالح ولد صدیق، نیاز ولد حافظ پوڑھو، مالک محمد حافظ، پریل ولد جمن، عبدالقیوم ولد ابراہیم، اختر بجیر ولد بکر بجیر، لیاقت ولد بکر بجیر اور سانوڻ ولد گيدڙو وھندانی کو نامزد کیا گیا ہے۔ اکرم ہالو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف سازش کے تحت جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل پولیس نے ایک گاڑی پکڑ کر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں انہیں بھی ملزم نامزد کردیا گیا۔ نیاز ہالو نے الزام عائد کیا کہ ونگو موڑ پر منشیات فروشی کے خلاف کارروائی میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، کلوئی میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر شراب اور دیگر منشیات کی فروخت جاری ہے، لیکن غریب افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے سی آئی اے انچارج میانداد چوپان پر بھی سوالات اٹھائے۔ واقعے کے بعد ہالا برادری کے افراد کی جانب سے تھرکول مین روڈ پر دھرنا دینے اور ٹائر نذر آتش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ارباب لطف اللہ کے قریبی ساتھی ولی آمر موقع پر پہنچے اور مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کروایا۔ پولیس کا موقف ہے کہ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی اور ملزم سے گٹکا برآمد ہونے کے بعد قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم منشیات کی مبینہ سرپرستی اور بڑے پیمانے پر فروخت کے الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آسکی۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے بھی شروع کر دیے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button