سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانتیں منظور، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانتیں 2،2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک ضمانت دی جا رہی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے ان کی عزت کا خیال رکھا جا رہا ہے، تاہم انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابھی کیس میں مخالفت میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ ٹرائل کورٹ میں ملزمان کو 7 مواقع فراہم کیے گئے جبکہ سزا کی معطلی کا عدالتی فورم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 کے تحت ہائیکورٹ ہے۔

رانا اسد نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوشن کو آخری موقع دے رکھا ہے۔

اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے جج اپنے آرڈر میں سپریم کورٹ کا حکم لکھ دیتے ہیں تو کیس ملتوی ہوجاتا ہے، بعد ازاں جب معاملہ سپریم کورٹ میں آتا ہے تو ہائیکورٹ میں نئی تاریخ مقرر ہوجاتی ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے مزید ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے انداز میں سپریم کورٹ کو کام کرنے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے پہلے حکم کے بعد کیا پیش رفت ہوئی؟

وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو پہلا حکم جاری کیا تھا، جس میں کیس کا 2 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس بھی عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائیں۔

دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پہلے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل سنے جائیں۔ اس موقع پر فیصل صدیقی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں بٹھا دیا جائے، تاہم انہوں نے ہمیں کافی تھکا دیا ہے۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس صرف جج یا وکیل کے انتقال کی صورت میں ملتوی ہوگا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس متعدد مرتبہ ملتوی کیا جبکہ جلد سماعت کی درخواست بھی ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے مسترد کردی۔

فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ان کے لیے حیران کن تھا۔

اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ’’آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔‘‘

مزید خبریں

Back to top button