60 سال پرانے پلاٹ کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم، چیئرمین سی ڈی اے کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری کی زمین ایکوائر کیے جانے کے تقریباً 60 سال بعد متبادل پلاٹ الاٹ کرکے منسوخ کرنے سے متعلق کیس میں چیئرمین سی ڈی اے کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔

جسٹس انعام امین منہاس نے بزرگ شہری محمد مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر عادل عزیز قاضی جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے ممبر اسٹیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت کی طلبی کے باوجود چیئرمین سی ڈی اے کے پیش نہ ہونے پر جسٹس انعام امین منہاس نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے کہاں ہیں۔ ممبر اسٹیٹ نے بتایا کہ چیئرمین پیش نہیں ہوسکے، اس لیے وہ ان کی جانب سے عدالت میں آئے ہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین سی ڈی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، لہٰذا انہیں خود عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔ عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کے پیش ہونے تک سماعت میں وقفہ کردیا۔

بعدازاں چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ جب چیئرمین کو طلب کیا گیا تو ممبر اسٹیٹ عدالت میں کیوں پیش ہوئے اور کیا ممبر اسٹیٹ ان کے اختیارات استعمال کرتے ہیں؟ چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ سکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس کی وجہ سے وہ بروقت عدالت نہیں آسکے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ 1966 کا معاملہ ہے اور اب تک درخواست گزار کو پلاٹ کیوں نہیں دیا گیا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے متاثرین کے مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی زمین لینے کے بعد ان کے حقوق کا تحفظ بھی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر کسی اور اتھارٹی کے پاس معاملہ حل کرنے کا اختیار ہے تو اسے بھی فریق بنایا جاسکتا ہے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے متاثرین کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ ان کے مسائل کی نشاندہی اور بروقت حل ممکن ہوسکے۔

چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ درخواست گزار کا معاملہ فوری طور پر حل کیا جائے گا اور انہیں متعلقہ حکام سے ملاقات کی ہدایت دی جائے گی۔

عدالت نے درخواست گزار کو چیئرمین سی ڈی اے سے ملاقات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس زیرِ التوا رکھا اور سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت کے قیام کے وقت 1966 میں شہری کی زمین ایکوائر کی تھی۔ تقریباً 60 سال بعد متبادل پلاٹ الاٹ کیا گیا، تاہم اسے بعد ازاں منسوخ کردیا گیا۔ بزرگ شہری نے پلاٹ کی منسوخی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button