صحرا، شمشیر اور بغاوت! سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین صدیوں پرانی فکری جنگ کا سچ

توصیف احمد خان
حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان جاری ٹکراؤ کو اکثر جدید دور کی سفارتی کشمکش یا پراکسی جنگ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں اس آتش فشاں کی جڑیں خطے کی گہری مذہبی تاریخ اور امامت کے منفرد تصور میں پیوست ہیں۔ یمن کا زیدی مسلک مذہبی تشخص اور قیادت کے معاملے میں دیگر شیعہ مکاتبِ فکر اور خطے میں حاوی سنی و وہابی فکر دونوں سے ایک جداگانہ اور منفرد حیثیت رکھتا ہے، جس کی کوکھ سے اس مزاحمت نے جنم لیا۔
زیدی امامت کی تاریخ یمن کے اجتماعی منظر نامے پر ایک ایسا گہرا نقش رکھتی ہے، جہاں امام کا بنیادی فریضہ صرف مسندِ تدریس پر بیٹھنا نہیں بلکہ ظالم کے خلاف شمشیرِ علم بلند کرنا اور انصاف قائم کرنا رہا ہے۔ اسی فکری و تاریخی ورثے کو اکیسویں صدی کی شروعات میں حسین بدر الدین الحوثی نے ایک منظّم سیاسی و عسکری تحریک میں ڈھالا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے یمن کے اقتدار کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ دوسری جانب سعودی عرب، جو اپنے جنوبی سرحدوں پر ایک خودمختار اور متبادل نظریاتی طاقت کے ابھار کو اپنے قومی استحکام کے لیے خطرہ سمجھتا تھا، اس ابھرتے ہوئے طوفان کے سامنے بند باندھنے کے لیے میدان میں اتر آمد۔
سعودی عرب اور حوثی تحریک کے مابین یہ تضاد محض سرحدی سلامتی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا ایک بڑا پہلو مذہبی و فکری تسلط کی جنگ کا بھی رہا ہے۔ 1962 میں یمن سے امامت کے خاتمے کے بعد جو خلا پیدا ہوا، اسے پر کرنے کے لیے سعودی عرب کی مالی و مذہبی معاونت سے وہابی فکری مراکز نے یمن کے شمالی علاقوں میں اثر و رسوخ بڑھایا، جس کے ردِ عمل میں مقامی زیدی آبادی نے اپنے فکری وجود کی بقا کے لیے حوثی تحریک کے گرد صف بندی شروع کر دی۔ یوں یہ کشمکش محض سیاسی حاکمیت کی بجائے تشخص اور نظریاتی بقا کا معرکہ بن گئی۔
اس پیچیدہ فکری میدانِ جنگ میں حمزہ بن لادن کا باب بھی ایک انتہائی اہم موڑ بن کر ابھرتا ہے۔ اسامہ بن لادن کے جانشین کے طور پر ابھرنے والے حمزہ بن لادن نے اس تمام منظر نامے میں سعودی حکومت کی پالیسیوں کی شدید مخالفت اور یمن کے سیاسی خلا کو اپنے نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بیانیے نے اس تاریخی تضاد کو مزید الجھا دیا، کیونکہ انہوں نے جزیرہ نما عرب کے مسلمانوں کو سعودی شاہی خاندان کے خلاف بغاوت کی ترغیب دی اور یمن کی جنگ کو امریکی و سعودی اثر و رسوخ کے خلاف ایک معرکے کے طور پر پیش کیا۔ اس طرح یمن کی سرزمین دو ریاستوں کے تصادم کے ساتھ ساتھ القاعدہ جیسے سخت گیر عناصر کی نظریاتی سیاست کا تختہ مشق بھی بنی۔
یمن کی حالیہ خونریز جنگ نے اس پورے تاریخی تنازع کو ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل کر دیا۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے لیے یہ جنگ محض ایک مختصر عسکری مہم تصور کی گئی تھی، لیکن یمن کے نامساعد جغرافیے اور حوثیوں کی گوریلا حکمتِ عملی نے اسے ایک طویل اور پیچیدہ دلدل میں بدل دیا۔ آج حوثی نہ صرف صنعاء سمیت اہم علاقوں پر غالب ہیں بلکہ بحرِ احمر اور باب المندب کی اہم عالمی تجارتی راہداریوں پر اپنے اثر و رسوخ سے عالمی سیاست کا ایک ایسا فیکٹر بن چکے ہیں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
اس تزویراتی معرکے کا بنظرِ غائر جائزہ یہ سچائی واضح کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اس پیچیدہ کینوس پر جب تک تاریخی جذبات، مذہبی تحفظات اور عوامی روح کو سمجھے بغیر صرف عسکری قوت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کیے جائیں گے، امن کا سراغ نہیں مل سکتا۔ حوثی اور سعودی عرب کا تنازع محض دو فریقین کی جنگ نہیں، بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ خطے میں دائم استحکام کا راستہ زورِ بازو اور تزویراتی بالا دستی سے نہیں بلکہ تاریخی تضادات کی فہم اور باہمی مفاہمت سے ہی نکل سکتا ہے۔



