وِیساسر میں زمین کا تنازع شدت اختیار کرگیا، سرکاری نوٹس پر عملدرآمد نہ ہونے کے الزامات

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) مٹھی تحصیل کے گاؤں وِیساسر میں زمین کے مبینہ تنازع پر کشیدگی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جہاں میگھواڑ برادری کے بزرگ مورو میگھواڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹھاکر برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد مقررہ رقبے سے زائد زمین پر مبینہ طور پر کاشت کر رہے ہیں۔

مورو میگھواڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گاؤں میں 35 ایکڑ سروے شدہ زمین کے بجائے مبینہ طور پر تقریباً 300 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی ہے، جبکہ گاؤں کی حدود اور گھروں کے قریب واقع زمین بھی زیرِ کاشت لائی گئی ہے۔ ان کے مطابق تین سال قبل درختوں کی کٹائی اور میگھواڑ برادری کے گھروں کی حدود تک کھیتوں کی حد مقرر کیے جانے کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا تھا، تاہم معاملہ تاحال حل نہیں ہوسکا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تپیدار لچھمن سنگھ نے مبینہ طور پر سرکاری زمین سے کاشت ہٹانے کے لیے میگھواڑ برادری سے دو لاکھ روپے وصول کیے، جبکہ بھیل برادری کے بعض گھر مسمار کیے گئے، تاہم ٹھاکر برادری کے بعض افراد کی مبینہ زیرِ قبضہ زمین سے کاشت ختم کرنے کے لیے کارروائی نہیں کی گئی۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر نوٹس تو جاری کیے جاتے ہیں، تاہم مبینہ طور پر ان پر عملدرآمد روک دیا جاتا ہے۔ دیہاتیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے کہ سرکاری احکامات پر عملدرآمد میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے۔

مورو میگھواڑ کے مطابق فصل ہٹانے کے معاملے کے دوران صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوا اور مبینہ طور پر بڑی تعداد میں افراد کو جمع کیا گیا۔ ان کے بقول بعد ازاں بعض بھیل خاندانوں کے گھروں کو مسمار کیے جانے کے معاملے پر جھگڑا بھی ہوا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

متاثرہ دیہاتیوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ زمین کے سرکاری ریکارڈ، سروے، مبینہ قبضے اور زیرِ کاشت رقبے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی گھر یا زمین کی ملکیت قانونی طور پر سرکاری ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کو واضح قانونی نوٹس دیا جائے، بصورتِ دیگر انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

دیہاتیوں نے مطالبہ کیا کہ زمین کے تنازع کو طاقت یا دباؤ کے بجائے قانون، سرکاری ریکارڈ اور شفاف تحقیقات کی بنیاد پر حل کیا جائے تاکہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ تصادم اور مزید کشیدگی سے بچا جاسکے۔

واضح رہے کہ خبر میں عائد کیے گئے الزامات متعلقہ افراد کے دعووں پر مبنی ہیں، محکمہ ریونیو یا دیگر نامزد افراد کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button