بھارت میں ہندوتوا کا بڑھتا اثر، اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی پر سوالات اٹھ گئے

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ہندو قوم پرستی اور ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرات کے باعث اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور ملک کے سیکولر تشخص سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران ہندوتوا کے سیاسی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کو امتیازی رویوں اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ہندوتوا ایک ایسے سیاسی و نظریاتی تصور کو فروغ دیتا ہے جس میں بھارت کی قومی شناخت کو ہندو مذہب، ثقافت اور قومیت کے گرد منظم کرنے پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ اس نظریے سے وابستہ بعض حلقے ’اکھنڈ بھارت‘ کے تصور کی بھی حمایت کرتے ہیں۔

مسیحی سیاسی کارکن ڈاکٹر جان دیال کے مطابق ہندوتوا کے ابتدائی نظریہ سازوں نے ایسے وطن کا تصور پیش کیا جس میں ایک مخصوص مذہبی شناخت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ان کے بقول اس سوچ کے نتیجے میں اسلام، عیسائیت اور دیگر مذہبی شناختوں کے لیے گنجائش محدود ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی قوم پرستی کی سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت بھارت کے آئینی سیکولر تشخص، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوری اقدار کے لیے ایک اہم آزمائش بن چکی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button