دماغ بننے سے پہلے جنین کا آٹو پائلٹ کون؟سائنس کے چکرا دینے والے انکشافات!

نہال معظم
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(اور خود تمہاری اپنی ذات میں بھی (قدرت کی نشانیاں) موجود ہیں، تو کیا تم دیکھتے نہیں؟) — سورۃ الذاریات: 21
قرآن کا یہ عالمگیر سوال انسان کو ہمیشہ اپنے وجود کے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، ایک ننھا سا انسانی وجود ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں، آنکھیں کھولنے میں کئی ماہ باقی ہیں، اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ آگے چل کر اسے ریاضی سے محبت ہوگی یا حساب کی کتاب دیکھ کر سر میں درد… مگر اس کے وجود کے اندر تعمیراتی کام فل اسپیڈ میں جاری ہے۔ لیکن یہاں ایک ایسا سوال پیدا ہوتا ہے جو عام انسان کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کا دماغ بھی چکرا دیتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی جسم کا تمام تر نظام، ہماری سوچ، حرکت اور اعضاء کی دیکھ بھال دماغ ہی سنبھالتا ہے۔ مگر اس وقت کیا ہوتا ہے جب ابھی دماغ کا اپنا نام و نشان بھی نہیں ہوتا؟ بغیر کسی ڈرائیور یا مرکزی کنٹرول روم کے یہ ننھی سی دنیا کیسے سانس لیتی ہے، کیسے بڑھتی ہے اور اپنے اعضاء بناتی ہے؟ اور پھر اچانک ایسا کیا ہوتا ہے کہ دماغ خود اپنی تعمیر کا نقشہ کھول کر بیٹھ جاتا ہے؟ سائنسدانوں نے حال ہی میں ان دونوں مراحل کے کچھ ایسے پراسرار اور حیران کن راز کھولے ہیں جو انسان کو بارگاہِ الٰہی میں سر بسجود ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
دماغ کی غیر موجودگی میں ابتدائی جنین کا زندہ رہنا اور بڑھنا کسی سائنس فکشن فلم کے منظر جیسا لگتا ہے۔ بالغ جسم کو اگر ہم ایک جدید سمارٹ شہر مان لیں جہاں تمام لائٹس اور ٹریفک کا کنٹرول مرکزی دفتر یعنی دماغ کے پاس ہوتا ہے، تو دماغ بننے سے پہلے کا وجود ایک ایسا عجیب و غریب خودکار کارخانہ ہے جہاں کا ہر مزدور یعنی خلیہ کسی باس کے بغیر اپنا کام مکمل مہارت سے کر رہا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اعصابی نظام ہی نہیں تو یہ خلیے آپس میں بات کیسے کرتے ہیں؟ سائنس بتاتی ہے کہ اس کا جواب حیاتیاتی بجلی میں چھپا ہے۔ ہمارے جسم کے ہر خلیے کے پاس اپنی ایک ننھی سی بیٹری ہوتی ہے۔ دماغ کے وجود میں آنے سے بہت پہلے یہ خلیے برقی وولٹیج کے ذریعے ایک دوسرے کو سگنل بھیجتے ہیں۔ یہ برقی پیغامات خلیوں کی رہنمائی کرتے ہیں کہ انہوں نے کس طرف جانا ہے اور کس عضو کی شکل اختیار کرنی ہے۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچے کا دل دماغ کے بننے اور فعال ہونے سے بھی پہلے دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔ حمل کے ابتدائی چند ہفتوں میں ہی دل کی ابتدائی نالی میں خودکار دھڑکن پیدا ہو جاتی ہے۔ دل کے پاس اپنے خاص پیس میکر خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی دماغی حکم یا اعصابی سگنل کے بغیر خود ہی برقی جھٹکے پیدا کر کے دل کو مسلسل دھڑکاتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیوں کے اندر کیمیائی مادوں کا ایک قدرتی نقشہ موجود ہوتا ہے جو ڈی این اے کی ہدایات پر آٹو پائلٹ موڈ میں کام کرتا ہے۔ یہ خلیے کیمیائی مقدار کو محسوس کر کے خود فیصلہ کرتے ہیں کہ انہوں نے سر کا حصہ بننا ہے یا پاؤں کا۔ گویا جسم کا پہلا ڈھانچہ بنانے کے لیے کسی مرکزی باس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، بلکہ تمام خلیے ایک مشترکہ قدرتی نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے ہوتے ہیں۔
پھر ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جب جسم کا یہ خودکار نظام اپنے سب سے بڑے شاہکار یعنی دماغ کی تعمیر کا کام شروع کرتا ہے۔ اب کہانی ایک بالکل نیا اور ڈرامائی موڑ لیتی ہے۔ انسان کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ جب ابتدائی خودکار نظام دماغ کی بنیاد رکھنے لگتا ہے تو اس ننھے سے بنتے ہوئے دماغ کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کہاں کیا بنانا ہے؟ کون سا خلیہ کس منزل پر جائے گا اور کون سی تہہ پہلے تیار ہوگی؟ سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ جیسے ہی دماغ کی بناوٹ کا وقت آتا ہے، قدرت اس کے اندر ایک نہایت پیچیدہ اور شاندار تعمیراتی نقشہ فعال کر دیتی ہے۔
دماغ کی شروعاتی نشوونما میں ریڈیل گلایا نامی خاص خلیے اچانک منظر عام پر آتے ہیں۔ اگر ہم ان کو آسان لفظوں میں سمجھنا چاہیں تو یہ دماغ کے سب سے پہلے سول انجینئر بھی ہیں اور ایک طرح کی لفٹ سروس بھی۔ یہ محض خاموشی سے بیٹھے نہیں رہتے بلکہ نئے بننے والے عصبی خلیوں یعنی نیورونز کو پکڑ کر ان کی صحیح منزل تک پہنچاتے ہیں۔ ذرا اس منظر کی دلچسپی کا اندازہ لگائیں کہ جیسے ہی ایک نیا عصبی خلیہ پیدا ہوتا ہے، وہ فوراً پوچھتا ہے کہ میری سیٹ کہاں ہے؟ اور ریڈیل گلایا اسے راستہ دکھاتے ہوئے اوپر کی منزل کی طرف بھیج دیتا ہے۔ یہ کوئی عام یا معمولی کام نہیں ہے، کیونکہ انسانی دماغ میں اربوں عصبی خلیے بنتے ہیں اور سب کو بالکل ایک ملی میٹر کی غلطی کے بغیر اپنی مقررہ جگہ پر پہنچنا ہوتا ہے۔ اگر یہ لفٹ غلط چل جائے یا خلیے راستہ بھٹک جائیں تو دماغ کی پوری ساخت اور صلاحیت بگڑ سکتی ہے۔
یہ خلیے خاص طور پر سیریبرل کورٹیکس یعنی دماغ کی بیرونی تہہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ اہم ترین حصہ ہے جس کے بل بوتے پر ہم بڑے ہو کر سوچتے ہیں، یادیں سنبھالتے ہیں، زبان سیکھتے ہیں، عجیب و غریب حساب لگاتے اور فیصلے لیتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ریڈیل گلایا صرف راستہ بتانے والے سائن بورڈ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک پورا تھری ڈی تعمیراتی ڈھانچہ تیار کرتے ہیں جس کے سہارے نئے خلیے چڑھتے جاتے ہیں اور دماغ کی تہیں ایک خاص ترتیب سے بنتی چلی جاتی ہیں۔ گویا دماغ کے پاس اپنا نقشہ بھی ہے، مزدور بھی ڈیوٹی پر ہیں، راستے بھی کھلے ہیں اور سپروائزر بھی چوکنا ہے۔
اصل کمال صرف خلیوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ان کی کلاسیفیکیشن اور تنظیم ہے۔ اربوں خلیوں کا اپنی صحیح جگہ پر پہنچنا، ایک دوسرے سے تار جوڑنا اور ایک مضبوط نیٹ ورک بنانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی خالی میدان میں صرف عمارتیں نہ بنائی جائیں بلکہ ساتھ میں سڑکیں، بجلی، پانی اور فون کے تمام کنکشن بھی ایک ساتھ اور درست جگہ پر لگائے جائیں۔ سائنس دان اس لیے بھی ان گہرے رازوں پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ پیدائش سے پہلے کی معذوریوں اور اعصابی بیماریوں کا علاج تلاش کیا جا سکے۔
اس پوری کہانی سے سب سے حیران کن سچائی یہی سامنے آتی ہے کہ جب ہم پہلی بار اس دنیا میں آنکھ کھول کر روتے ہیں تو ہمارا دماغ کوئی خالی کاغذ یا کوڑا صفحہ نہیں ہوتا۔ ہماری پیدائش سے بہت پہلے ہی اس کے اندر ایک لمبا، پراسرار اور شاندار سفر مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔ بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلانے سے لے کر اپنے اندر دنیا کا سب سے پیچیدہ سپر کمپیوٹر بنانے تک، ہمارے وجود کی کہانی ہماری پہلی سانس سے بھی بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے اور ہم میں سے کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ اندر کی ٹیم کتنی خاموشی سے اپنا کام پورا کر چکی ہوتی ہے۔



