نیب ریمانڈ 40 دن کرنے کا صدارتی آرڈیننس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) نیب کیسز میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے نجیع اللہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق اور ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں فیصل عرفان عدالت میں پیش ہوئے۔
14 دن کا ریمانڈ 40 دن کرنا آئینی اختیار سے تجاوز ہے، وکیل
درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمان نے باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن مقرر کی تھی، تاہم 2024 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسے بڑھا کر 40 دن کردیا گیا، جو آئینی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔
وکیل کے مطابق پارلیمان نے غور و بحث کے بعد نیب کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کرکے 14 دن مقرر کی تھی، اس لیے صدر کو آرڈیننس کے ذریعے پارلیمانی قانون میں اس انداز سے تبدیلی کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
آرڈیننس اسمبلی میں پیش ہوا مگر منظور نہ ہوسکا، وکیل
اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ صدارتی آرڈیننس قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا تھا، تاہم اسے پارلیمانی منظوری حاصل نہیں ہوئی بلکہ اسمبلی نے اسے مسترد کردیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید دعویٰ کیا کہ آرڈیننس کا مقصد بانی پی ٹی آئی کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے لیے جسمانی ریمانڈ کی مدت میں اضافہ کرنا تھا۔ تاہم یہ مؤقف درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
وکیل نے کہا کہ نہ کوئی ایسی ہنگامی صورتحال موجود تھی اور نہ ہی غیر معمولی حالات تھے جن کی بنیاد پر پارلیمان کے مقرر کردہ قانونی نظام کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے درخواست خارج کرنے کی استدعا کردی
ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں فیصل عرفان نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ آرڈیننس لاہور ہائیکورٹ میں پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ بھی آچکا ہے۔
انہوں نے عدالت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ درخواست گزار اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں ہیں، لہٰذا درخواست خارج کی جائے۔
تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل کے مطابق اصل سوال آرڈیننس کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ صدر کے آئینی اختیار کا ہے، جس پر لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ نہیں دیا۔
عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے 40 دن کرنے سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جسمانی ریمانڈ کی مدت بڑھانے کے اقدام کے حوالے سے عدالت کیا قانونی مؤقف اختیار کرتی ہے۔



