پیٹرولیم لیوی پر حکومت کو بڑا الٹی میٹم، جماعت اسلامی کا احتجاج وسیع کرنے کا اعلان

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور بھاری پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی نے حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا، نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مرحلہ وار وسیع کیا جائے گا۔
چیئرنگ کراس مال روڈ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں ایک بار پھر شب خون مارا گیا اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔
لیاقت بلوچ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کریں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر عملدرآمد کرکے اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ، تاہم پاکستان میں اصل مسئلہ بھاری پیٹرولیم لیوی ہے۔ ان کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 130 سے 148 روپے تک اضافی بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے، جس سے پیداواری لاگت اور مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات
لیاقت بلوچ کے مطابق جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان اسلام آباد میں گزشتہ روز تقریباً ڈھائی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی سمیت ایف بی آر، پلاننگ اور وفاقی سیکریٹریز کے نمائندے شریک ہوئے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، فراست شاہ، نوید علی بیگ، عنایت اللہ خان اور دیگر رہنماؤں نے مذاکرات میں شرکت کی۔
لیاقت بلوچ نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی، سرکاری اخراجات کم کرنے اور مختلف شعبوں میں بچت کے لیے متبادل تجاویز حکومت کے سامنے رکھیں، جنہیں حکومتی کمیٹی فوری طور پر مسترد نہیں کرسکی اور مزید غور کے لیے دو سے تین روز کا وقت مانگا۔
مذاکرات کا اگلا دور 10 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔
دھرنا مؤخر کرنے کی حکومتی درخواست مسترد
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ حکومتی نمائندوں نے مذاکرات شروع ہونے کے باعث جماعت اسلامی سے دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم جماعت اسلامی نے یہ تجویز مسترد کردی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا اعلان کردیتی ہے تو احتجاج ختم کردیا جائے گا، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مرحلہ وار مزید وسیع کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات اور غیر ضروری مراعات میں کمی کی جائے۔
یوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ تو جاری ہے، تاہم احتجاج ختم کرنے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاملہ بدستور کشیدہ ہے اور 10 ستمبر کے مذاکرات کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔



