میررضا قتل کیس میں تہلکہ خیز پیشرفت،جوڈیشل کمیشن میں پوسٹمارٹم سے متعلق اہم انکشافات،وزیرداخلہ سندھ طلب

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں اہم اور حیران کن انکشافات سامنے آگئے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا جبکہ پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار، شواہد، تصاویر اور میر رضا کے پوسٹ مارٹم سے متعلق اہم معلومات بھی پیش کی گئیں۔

جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے آغاز پر جسٹس عمر سیال نے کمیشن کو موصول ہونے والے مختلف میسجز اور ای میلز سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کمیشن کے سوالات کے جوابات دیے۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ وہ 10 جون 2022 سے کراچی میں پولیس سرجن کے عہدے پر کام کررہی ہیں جبکہ 1999 سے پوسٹ مارٹم کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اب تک تقریباً ایک ہزار پوسٹ مارٹم کرچکی ہیں۔

کمیشن نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات دریافت کیں تو ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ میڈیکو لیگل کیسز میں لاش کے معائنے اور شناخت سمیت مختلف مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔ نامعلوم لاش کی صورت میں ڈی این اے سیمپل حاصل کیے جاتے ہیں جبکہ فنگر پرنٹس، چہرے اور تصاویر کے ذریعے بھی شناخت میں مدد لی جاتی ہے۔

پوسٹ مارٹم کے دوران کیا کچھ ریکارڈ کیا جاتا ہے؟

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کی مکمل حالت کا جائزہ لیا جاتا ہے، کپڑوں کے ساتھ اور پھر بغیر کپڑوں کے تصاویر بنائی جاتی ہیں، جبکہ سر سے پاؤں تک زخموں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بھی تعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ زخم موت سے قبل آئے یا موت کے بعد، جبکہ ممکن ہو تو موت کی وجہ اور موت سے پوسٹ مارٹم تک کے ممکنہ دورانیے کے بارے میں بھی رائے دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے مزید بتایا کہ مشکل نوعیت کے کیسز میں وہ خود پوسٹ مارٹم میں حصہ لے کر معاونت کرتی ہیں۔

میر رضا کے پوسٹ مارٹم پر اہم سوالات

کارروائی کے دوران میر رضا کے پوسٹ مارٹم سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھائے گئے۔ ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر اسامہ سے متعدد مرتبہ میر رضا کے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے دریافت کیا تھا اور زخموں کی تصاویر طلب کی تھیں۔

ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کے سامنے ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق گولی لگنے اور گولی کے نکلنے کی جگہ سے متعلق تصاویر بھی فراہم کی گئی تھیں۔

پوسٹ مارٹم میں سویپر کے کردار کا معاملہ

کمیشن کی کارروائی کے دوران جسٹس عمر سیال نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کیس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک سویپر نے پوسٹ مارٹم کیا تھا۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ شعیب راشد کو انہوں نے خود تربیت دی ہے اور یہ تربیت متعلقہ بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہوتی ہے۔

انہوں نے میڈیکو لیگل افسران کی دستیابی اور ڈاکٹروں کی عدم دلچسپی سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

جبران ناصر کا اہم نکتہ، پوسٹ مارٹم کی ٹائمنگ پر توجہ

دورانِ سماعت وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پوسٹ مارٹم انتہائی اہم کارروائی ہے اور اگر اس کی ٹائمنگ متاثر ہو تو شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔

بعدازاں کمیشن نے کارروائی کے دوران تصاویر دکھائے جانے سے قبل اہلخانہ کو باہر جانے کی درخواست کی اور خبردار کیا کہ تصاویر ان کے لیے تکلیف دہ ہوسکتی ہیں، تاہم میر رضا کی بہن علشباہ نے کہا کہ اہلخانہ کارروائی میں موجود رہنا چاہتے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر کمیشن برہم

کارروائی کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ سوالات کمیشن کی جانب سے کیے جانے چاہئیں۔

اس پر کمیشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر مقتول کے اہلخانہ کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو سندھ حکومت کو اس پر اعتراض کیوں ہے اور کیا کچھ چھپایا جارہا ہے؟

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر جسٹس عمر سیال نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کارروائی معطل کردی، بعدازاں کمیشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جسٹس عمر سیال اٹھ کر چلے گئے۔

تفتیشی افسر نے اہم شواہد بھی جمع کرا دیے

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کے تفتیشی افسر نے جوڈیشل کمیشن کے پاس مزید اہم دستاویزات جمع کرا دیں۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، اسمارٹ واچ، موبائل فون اور دیگر اشیا سے متعلق فارنزک رپورٹس کمیشن کے حوالے کی گئی ہیں، جبکہ گواہوں کے مزید دفعہ 161 کے بیانات کی نقول بھی پیش کردی گئی ہیں۔

میر رضا کا آئی فون کھولنے میں پنجاب فارنزک لیبارٹری بھی ناکام

کیس میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پنجاب فارنزک لیبارٹری میر رضا کا آئی فون کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میر رضا کی گھڑی اور موبائل فون تحقیقاتی ٹیم کو واپس بھیجے جائیں گے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کی ایپل واچ سے چند اسکرین شاٹس اور میسجز ضرور ملے، تاہم ابتدائی طور پر ان مواد کو تفتیش کے لیے اہم قرار نہیں دیا گیا۔

میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل تحقیقات میں سامنے آنے والی یہ پیش رفت اب کیس کے شواہد، پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور تفتیشی عمل سے متعلق کئی اہم سوالات کو مزید نمایاں کر رہی ہے، جبکہ وزیر داخلہ سندھ کی طلبی کے بعد معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button