بجلی کے شعبے میں بڑا انقلاب! اویس لغاری نے نیپرا کے فیصلے کو اہم سنگ میل قراردیدیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے نیپرا کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کی جانب اہم سنگِ میل قرار دے دیا۔
اویس لغاری کا کہنا ہے کہ یوز آف سسٹم چارجز کا تعین سینٹرلائزڈ ٹریڈنگ اینڈ بائی لیٹرل کنٹریکٹنگ مارکیٹ (CTBCM) کے قیام کے لیے آخری اہم ریگولیٹری اقدام تھا، جس کے بعد CTBCM کی نیلامی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق مسابقتی بجلی مارکیٹ پاکستان کو روایتی واحد خریدار نظام سے آگے لے جائے گی۔ اہل صنعتی صارفین پہلی مرتبہ اپنی پسند کے بجلی فراہم کنندگان سے بجلی خرید سکیں گے جبکہ صنعتی صارفین دوطرفہ بنیادوں پر بھی بجلی کے معاہدے کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسابقتی مارکیٹ کے فوائد صرف صنعتی صارفین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بجلی کی خریداری میں مسابقت سے زیادہ مؤثر پیداوار اور بہتر قیمتوں کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اس نظام سے موجودہ پاور پلانٹس کے بہتر استعمال میں بھی مدد ملے گی۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ مسابقتی بجلی مارکیٹ بجلی کی ویلیو چین میں موجود نااہلیاں کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی، جبکہ قابلِ تجدید توانائی اور بیٹری اسٹوریج کی شمولیت کو بھی فروغ ملے گا۔
وفاقی وزیر کے مطابق نئی مارکیٹ مقامی اور کم لاگت توانائی کے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد دے گی اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا کا فیصلہ براہِ راست بجلی رسائی کے لیے ضروری ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ CTBCM کی نیلامی پاکستان کی بجلی مارکیٹ میں ایک اہم ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرے گی۔
اویس لغاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارتِ توانائی مسابقتی بجلی مارکیٹ کو شفاف، مؤثر اور عملی انداز میں نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے اہل صارفین کو بجلی کے انتخاب کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے۔



