انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے سے 7 ایئرپورٹس بند،2300پروازیں منسوخ 2 لاکھ 70 ہزار مسافر متاثر

جکارتہ (مانیٹرنگ ڈیسک)انڈونیشیا میں آتش فشاں اناک کراکاٹوا کے دوبارہ پھٹنے کے بعد آتش فشانی راکھ فضا میں پھیل گئی، جس کے باعث دارالحکومت جکارتہ کے مرکزی ہوائی اڈے سمیت 7 ایئرپورٹس پر فضائی آپریشن معطل کردیا گیا۔

حکام کے مطابق صورتحال کے باعث تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار مسافر متاثر ہوئے جبکہ 2 ہزار 300 سے زائد پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔

انڈونیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے تک بند رکھا گیا، جبکہ مزید 6 ہوائی اڈوں پر بھی فضائی آپریشن معطل رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم اور راکھ کے پھیلاؤ کی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے پروازوں کی مکمل بحالی کے بارے میں حتمی وقت بتانا ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ میں موجود سلفر اور سلیکا کے ذرات طیاروں کے انجنوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ تیز ہواؤں کے باعث راکھ کے بادل مختلف سمتوں میں پھیل رہے ہیں۔

موسمیاتی ادارے کے مطابق بعض مقامات پر راکھ کے بادل 15 ہزار میٹر تک بلند ہوئے۔ شہریوں کو بھی احتیاط برتنے اور باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بعض تعلیمی سرگرمیاں آن لائن منتقل کردی گئی ہیں۔

اناک کراکاٹوا انڈونیشیا کے تقریباً 130 فعال آتش فشاں میں شامل ہے۔ 1883ء میں اسی خطے کے قدیم کراکاٹوا کے تباہ کن دھماکے اور اس کے بعد آنے والی سونامیوں میں 36 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2018ء میں اناک کراکاٹوا سے منسلک سونامی نے بھی 400 سے زائد جانیں لیں۔

حکام فی الحال آتش فشاں کی سرگرمی، راکھ کے پھیلاؤ اور موسمی حالات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button