صحافی بلال غوری کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، عدالت نے 10 روزہ استدعا مسترد کردی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) متنازع پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار صحافی بلال غوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے ان کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

صحافی بلال غوری کی جانب سے عمران شفیق اور حبیب حنظلہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ 5 ستمبر کو وی لاگ اپلوڈ ہونے کے بعد اسی رات بغیر کسی نوٹس کے بلال غوری کو گرفتار کرلیا گیا۔ وکلا کے مطابق وی لاگ میں کوئی ایسا لفظ شامل نہیں جسے غلط یا جھوٹ قرار دیا جاسکے۔

بلال غوری نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے فیصل نصیر کے بارے میں نہیں بلکہ نیکٹا کی کارکردگی کے حوالے سے بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف ادارے کی کارکردگی پر گفتگو کی۔

عدالت کی جانب سے وی لاگ کے آخر میں کہے گئے الفاظ سے متعلق استفسار پر بلال غوری نے وضاحت کی کہ انہوں نے کہا تھا کہ فیلڈ مارشل جو کہیں گے، وہی کیا جائے گا۔

مجسٹریٹ ملک امان نے سوال کیا کہ اگر عدالت کے حوالے سے بھی اسی طرح کے الفاظ کہے جائیں تو کیا یہ مناسب ہوگا؟ بلال غوری نے جواب دیا کہ عدلیہ آزاد ہے، جبکہ متعلقہ ادارے چین آف کمانڈ کے تحت کام کرتے ہیں۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ بلال غوری نے جاری ہونے والا نوٹیفکیشن پڑھ کر اس پر تبصرہ کیا تھا۔ وکیل کے مطابق صحافی نے صرف یہ کہا کہ ان کی مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی، یہ کون سا جھوٹ ہے؟ این سی سی آئی اے بتائے کہ وی لاگ میں کون سی بات غلط یا جھوٹ ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چودھری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی عدالت کے سامنے کھڑے ہیں، اس طریقے سے تو صحافت نہیں کی جاسکتی۔

عدالت نے این سی سی آئی اے کی 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بلال غوری کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا۔

مزید خبریں

Back to top button