سندھ کو تقسیم کرنے کی بات ناقابلِ قبول، راشد محمود سومرو نے حکمرانوں کو کھری کھری سنا دیں

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)جمیعت علماء اسلام ف سندھ کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو نے گزشتہ روز بدین میں پرجوش پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے صوبے بنانے اور سندھ کو تین یونٹوں میں تقسیم کرنے کی سندھ اسمبلی میں بحث سمجھ سے باہر ہے انہونے کہا کہ وزیراعظم نئے صوبوں کی بات کرتے یا قومی اسمبلی سینیٹ یا پنجاب کے پی کے اسمبلیوں میں نئے صوبوں کی بات ہوتی تو سندھ اسمبلی میں بھی بحث معقول بات تھی جاتی لیکن ایک مسخرہ اور خیراتی ووٹوں پر سینیٹ کا میمبر منتخب ہونے والا میڈیا پر آ کر ملک کا نظام کولیپس ہونے اور ملک میں نئے صوبے بنانے کی بات کرتا ہے اور سندھ اسمبلی میں اس پر بحث کرائی جاتی ہے کیوں انہونے کہا کے صدر پاکستان کہتے ہیں کے میرے دو بیٹے ہیں ایک کا نام بلاول بھٹو زرداری ہے دوسرے کا نام محسن نقوی ہے ایک بیٹے نے کہہ رہا ہے سندھ کو تقسیم کرو دوسرا بیٹا بینظیر بھٹو کی تصویر ہاتھ میں اٹھاکر بولتا ہے سندھ ماں کو تقسیم ہونے نہیں دوں گا اسی صدر کی پارٹی کے سندھ کے صدر نے سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم پر بحث کی درخواست ڈال دی اور اسی صدر کی پارٹی کا وزیراعلی نے سندھ اسمبلی میں تقریر کردی اسی صدر کی پارٹی کے سندھ اسمبلی میں بیٹھے میمبراں بشمول خواتین نے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگا رہے تھے مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کے یہ سارا ڈراما تھا اس بات کا کے اٹھارہ سالوں سے جو انہونے جرائم کیئے ہیں عوام ان کو سندھ کے نام پر معاف کردے یہ ڈارمہ تھا جو تین دن سندھ اسمبلی میں رچایا گیا سندھ کے عوام کی آ نکھوں میں سرمہ لگانے کا اور سندھ کے عوام کو بیوقوف بنانے کا انہونے کہا کے سندھ اسمبلی میں محترمہ فریال تالپور نے کہا کے ہم سندھ کی تقسیم کی بات کرینگے تو محترمہ بینظیر بھٹو کو کیا منہہ دکھائیں گے انہوں کہا کے ان کو اللہ کی فکر نہیں ہے کے وہ ان کو کیا منہہ دکھائیں گے جو انہونے کرپشن کی ہے اسپتالوں کی دوائیوں کی بجیٹیں کھا گئے ہیں نوکریاں فروخت کرتے ہیں ایس ایس پی کی تقرری کے عیوض آر کروڑ روپے رشوت لیتے ہیں سندھ کے ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں پورے سندھ کو انہونے منشیات کا اڈہ بنا دیا ہے اللہ کی فکر نہیں ہے انہونے کہا کے سندھ کے یہ حکمران سندھ کے وسائل اور جزائر بیچنے والے ہیں یہ کرپشن کرنے والے ہیں یہ ڈاکوؤں کے سرپرست ہیں انہونے سندھ اسمبلی میں سن تین دن ڈارمہ اس لیئے رچایا کے سندھ کے عوام ان کو اٹھارہ سال سے کیئے گئے گناہ معاف کردینگے لیکن سند کے عوام نہ ان کو معاف کریں گے ن ہ ہی ان کے گناہوں کو بھلا دینگے انہونے کہاکہ سندھ کے عوام نے 2018 اور 2024 کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری کی کارنامہ سے ضمانت ظبط کرائی تھی اور اب آئندہ انتخابات میں بھی سندھ کے ان کو مسترد کرینگے انہونے جو انتخابات چورے کیئے تھے ان ان انتخابات چورے کرنے نہیں دینگے اور اب اگر ایسا ہوا تو ہم واضح کردیتے ہیں کے ہم کراچی پورٹ بند کرینگے اور سندھ پنجاب بارڈر بند کرینگے اور کوئی بھی کنٹینر جے یو آئی کے کارن پنجاب میں داخل نہیں دینگے اور آ ئین وقانون کے رستے پر چلتے ہوئے پانچ سال تک بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے اور پنجاب سندھ کا بارڈر اور کراچی پورٹ پانچ سال نہیں کھلیں گے انہونے کہا کے ملک میں جہاں بھی قدرتی وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں انہونے کہا کے بدین سجاول سمیت سندھ کے دیگر اضلاع سے نکلنے والا تیل اور گیس کہاں جا رہا ہے تھر سے پیدا ہونے والی بجلی کہاں بھیجی جا رہی ہے سندھ سے لیکر بلوچستان تک پہاڑیوں سے ملنے والی معدنیات کہاں جا رہی ہے انہونے کہا کے قمبر شہداد کوٹ کی پہاڑیوں میں موجود معدنیات کا امریکی صدر بھی ذکر کرتا ہے کیا سندھ کے حکمرانوں کو اس کا پتہ نہیں ہے انہونے کہا کے یہ ایک عالمی سازش کا حصہ پاکستان میں بندوق اور خون کی ہولی عالمی سازش کا حصہ ہے پاکستان میں نئے صوبوں کا راگ عالمی سازش کا حصہ ہے تاکہ ہمارے قدرتی وسائل بیرونی سامراجی طاقتوں کے حوالے ہو جائیں اور لیکن ہمارا موقف ہے کے یہ جن کے وسائل ہیں وہاں کی عوام کی خوشحالی پر خرچ ہونے چاہیئیں جس کے لیئے جے یو آئی لڑ رہی ہے مولانا راشد محمود سومرو نے صحافیوں کو بتایا کے جمیعت علماء اسلام نے فیصلا کیا ہے کے صوبہ سندھ جو مسائلستان بنا ہوا ہے جہاں امن امان کی صورتحال مخدوش ہے سندھ ڈاکو کلچر اسٹریٹ کرائم عروج پر ہے قبائلی لڑایوں میں سندھ کے ہزاروں نوجوانوں شہید ہو گئے ہیں میرٹ کا قتل ہو رہا ہے کرپشن عروج پر پہنچ چکی ہے بلوچستان کے پی کے کی صورت حال انتہائی خراب ہے جے یو آئی سندھ کے وسائل کے حل کے لیئے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع منعقد کرنے جا رہی ہے 19 20 21 مارچ 2027 سکھر ہم پچاس لاکھ لوگ جمع کرینگے ان نا اہل حکمرانوں کے خلاف اس اجتماع میں سعودی عرب سے لیکرآ مریکہ تک اور افریقہ سے لیکر جاپان کینڈی اور جرمنی تک وفود اس اجتماع میں شرکت کرینگے



