آن لائن دنیا میں بچوں کے تحفظ کا بحران!21ممالک میں2کروڑ بچوں کے جنسی استحصال کاانکشاف

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی نئی رپورٹ نے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک انتہائی تشویشناک صورتحال سامنے رکھ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 21 ممالک میں تقریباً 2 کروڑ بچے، جن کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں، ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوئے۔

یونیسیف کے مطابق یہ تعداد ان ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کا تقریباً ہر پانچواں بچہ بنتی ہے۔

تحقیق کے دوران تقریباً 21 ہزار بچوں سے سروے کیا گیا، جبکہ متاثرہ نوجوانوں کے تفصیلی انٹرویوز بھی کیے گئے تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے جنسی استحصال کی نوعیت اور شدت کا اندازہ لگایا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا یا بھیجا گیا، جبکہ تقریباً 90 لاکھ بچوں کو جنسی گفتگو یا تصاویر شیئر کرنے کے لیے مجبور یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

یونیسیف نے بتایا کہ بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے نصف سے زیادہ واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، تاہم انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات میں ایک فیصد سے بھی کم حکام کو رپورٹ کیے گئے۔

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جعلی جنسی تصاویر تیار کرنے کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یونیسیف نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، شکایات اور رپورٹنگ کے نظام اور متعلقہ قوانین کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال سے محفوظ رکھنا حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، والدین اور معاشرے کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button