جنگ میں تباہ ہونیوالے فوجی مراکز محفوظ مقامات پر دوبارہ قائم کردیئے،ایران کا دعویٰ

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے سینئر مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران نقصان پہنچنے والے ایرانی فوجی مراکز کو زیادہ محفوظ مقامات پر دوبارہ قائم کردیا گیا ہے اور وہاں پہلے سے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ زیادہ تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔

الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد رضا نقدی نے جنگ کے بعد ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مراکز کو جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا، انہیں نئے اور نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرکے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ان مراکز میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر دفاعی پیداوار کی رفتار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے دوران فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی پیداواری صلاحیت بحال کرنے میں تیزی دکھائی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی حکومت کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ برقرار ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں کسی قسم کی اندرونی تقسیم نہیں ہے۔

ایرانی عہدیدار نے امریکا کے ساتھ مستقبل کے تعلقات اور ممکنہ تنازع کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ ان کے مطابق ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات، بلکہ ملک کے لیے ایسی قوت قائم کرنا ہے جس کے باعث کسی بھی مخالف کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے کئی مرتبہ سوچنا پڑے۔

محمد رضا نقدی نے کہا کہ ایران کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیت اس حد تک مضبوط کرنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جاسکے۔ ان کے مطابق مضبوط دفاعی بازدار قوت خطے میں مستقبل کے تنازعات کے امکانات کم کرسکتی ہے۔

انہوں نے امریکا کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے مفاد میں یہ نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اور بڑے فوجی تنازع میں داخل ہو۔ ان کے مطابق کسی نئے بڑے تنازع کے نتیجے میں امریکا کو بھی بھاری سیاسی، فوجی اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تاہم ایرانی عہدیدار کی جانب سے فوجی مراکز کی بحالی اور پیداوار میں اضافے سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مزید خبریں

Back to top button