مکہ دفاعی معاہدے سے ہمارے دشمن بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہوں گی؟خواجہ آصف

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزیردفاع خواجہ آصف نے مکہ معاہدے پر پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سیکرٹریٹ کے قیام پر سیر حاصل بحث ہوئی جس دوران مجوزہ اتحاد کے سیکرٹریٹ کا اسٹرکچر اور مینڈیٹ زیر بحث آیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اجلاس میں سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ میں مختلف عہدوں اور شعبوں کے قیام پر غور کیا گیا جبکہ اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کیلئے شرائط،طریقہ کار اور ٹائم فریم بھی زیربحث آئے۔
ان کا کہناتھا کہ پاکستان کے اتحاد کے اسٹرکچر سے متعلق ڈرافٹ کو خاصی پذیرائی ملی ہے، سیکرٹریٹ اور تنظیمی ڈھانچے کی حتمی شکل دو تین ہفتوں میں تیار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے اوائل میں تینوں ممالک دوبارہ اجلاس کریں گے جس دوران کام کو حتمی شکل دی جائے گی تاہم نئے ممالک کی اتحاد میں شمولیت کی شرائط و ضوابط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
وزیر دفاع کا کہناتھا کہ نئےممالک کی شمولیت فوری ہو گی یا کسی عبوری مدت کے بعد اس حوالے سے فیصلہ بعد میں ہو گا، تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اتحاد کا بنیادی اسٹرکچر عملی شکل اختیار کر جائے گا۔
خواجہ آصف کا کہناتھا کہ ابھی تمام معاملات حتمی نہیں ہوئے تاہم بنیادی اصول اور اسٹرکچر طے کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے میں مضبوط دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اتحاد کی شروعات اللہ کے گھر سے ہوئی،دعا ہےاللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے، اتحاد کا مقصد مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا مل کر سامنا کرنا ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا اس اتحاد سے ہمارے دشمن بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہوں گی؟ خواجہ آصف نے جواب دیا کہ عالم اسلام کے تمام دشمنوں میں بھارت بھی شامل ہے۔
ان کا کہناتھا کہ تینوں ممالک کا اتحاد کسی ملک کےخلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے اور یہ اتحاد کسی کے ساتھ لڑائی یا جارحیت کیلئے نہیں بنایا گیا بلکہ ہمارامقصد دفاعی معاہدہ ہے،کسی کیخلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، دفاعی اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کی باہمی حفاظت اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق مستقبل میں مزیداسلامی ممالک کی شمولیت کے حوالے سے طریقہ کار طے کیا جائے گا، فی الحال پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اتحادکے بنیادی تین رکن ممالک ہیں۔
اتحادمیں مزید ممالک کی شمولیت کافیصلہ طے شدہ مینڈیٹ اور شرائط کے مطابق ہو گا،اتحاد کا کوئی جارحانہ ڈیزائن نہیں بلکہ یہ 100فیصد دفاعی معاہدہ ہے، اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی تحفظ اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔



