لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے لیسکو چیف محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی آئینی درخواست مسترد کردی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے 11 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ سرکاری ادارے کسی اجلاس کی کارروائی کو حتمی فیصلہ ہونے کے بعد مستقل طور پر خفیہ نہیں رکھ سکتے۔
عدالت نے واضح کیا کہ رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت اجلاسوں کے منٹس کو حتمی فیصلے تک قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، تاہم فیصلہ ہوجانے کے بعد یہ استثنیٰ برقرار نہیں رہتا۔
فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19-A کے تحت شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کے قانون کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینا ہے۔
عدالت نے لیسکو کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس میں افسر کا سروس ریکارڈ اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہونے کے باعث مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی مخصوص حصے میں قانونی طور پر محفوظ معلومات موجود ہوں تو صرف وہ حصہ الگ کیا جاسکتا ہے، پورا ریکارڈ روکنے کا جواز نہیں بنتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ معلومات حاصل کرنے والے شہری سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ معلومات کس مقصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ معلومات روکنے کا جواز ثابت کرنے کی ذمہ داری عوامی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے انفارمیشن کمیشن کا لیسکو کو 10 روز میں مطلوبہ منٹس فراہم کرنے کا حکم بھی برقرار رکھا اور قرار دیا کہ کمیشن کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اختیار حاصل ہے۔



