لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دےدیا، ملازم کے قانونی حقوق بحال

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ واپس لینے کا محکمہ جنگلات کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ملازم کے قانونی حقوق بحال کردیئے۔
جسٹس شیریں عمران نے محمد اکرم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حاصل شدہ قانونی حقوق بعد میں واپس نہیں لیے جاسکتے جبکہ ملازم کو سنے بغیر اس کے خلاف منفی فیصلہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق محکمہ جنگلات نے 30 جون 2021 کے حکم کے ذریعے اسے 18 جون 2021 سے طبی بنیادوں پر ریٹائر کیا تھا۔ طبی معائنے کے بعد اسے کیٹیگری ’’بی‘‘ میں فرائض کی انجام دہی کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، جبکہ ریٹائرمنٹ کے ساتھ 365 دن کی ایل پی آر کے عوض چھٹیوں کی رقم نقد حاصل کرنے کا حق بھی دیا گیا۔
تاہم محکمہ جنگلات نے تقریباً ایک سال بعد 24 جون 2022 کو سابقہ ریٹائرمنٹ آرڈر واپس لے لیا۔ محکمہ نے یہ اقدام محکمہ خزانہ کی 24 اگست 2021 کی وضاحت کی بنیاد پر کیا، حالانکہ ریٹائرمنٹ کا حکم اس وضاحت سے پہلے جاری ہوچکا تھا اور اس پر عملدرآمد کے نتیجے میں درخواست گزار کے قانونی حقوق بھی پیدا ہوگئے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد درخواست گزار کے بیٹے کی پنجاب سول سرونٹس رولز کے رول 17-A کے تحت تقرری سمیت دیگر اقدامات بھی ہوچکے تھے، اس لیے بعد میں جاری ہونے والی وضاحت کی بنیاد پر پہلے سے حاصل شدہ قانونی حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی اصول کے مطابق جب کسی سرکاری حکم سے قانونی اثر پیدا ہوجائے اور کسی شخص کے حقوق وجود میں آجائیں تو اسے بعد میں اس انداز میں واپس نہیں لیا جاسکتا جس سے پہلے سے حاصل شدہ حقوق متاثر ہوں۔
لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ خزانہ کی 24 اگست 2021 کی وضاحت کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ اس میں ماضی سے اطلاق کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں، لہٰذا اسے ان معاملات پر لاگو نہیں کیا جاسکتا جو وضاحت جاری ہونے سے پہلے مکمل ہوچکے تھے۔
عدالت نے قدرتی انصاف کے اصول پر بھی زور دیتے ہوئے قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ واپس لینے سے قبل درخواست گزار کو نہ شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق کسی شخص کے حقوق، ملازمت یا دیگر قانونی مفادات متاثر کرنے سے پہلے اسے مؤثر طور پر اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع دینا قدرتی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے اور سماعت کا موقع محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ منصفانہ قانونی طریقہ کار کا لازمی حصہ ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے 24 جون 2022 کو جاری کیا گیا ریٹائرمنٹ واپس لینے کا حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے محمد اکرم کی درخواست منظور کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کا متنازعہ حکم کالعدم قرار دے دیا اور 30 جون 2021 کو جاری کیا گیا طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کا سابقہ حکم بحال کردیا۔



