بابائے حریت سید علی گیلانی کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک) لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بابائے حریت سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی منا رہے ہیں۔
سید علی گیلانی نے بھارتی ظلم و جبر کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور آخری سانس تک اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے دو دہائیوں سے زائد عرصہ بھارتی زندانوں اور نظر بندی میں گزارا۔
سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو بانڈی پورہ کے قریب گاؤں زرمنز میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اورینٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ وہ 1949 میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔
1961 میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر جماعت اسلامی کے ہمہ وقت رہنما بن گئے اور اسی سال پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے 1972، 1977 اور 1987 کے انتخابات میں تین مرتبہ رکن منتخب ہوئے۔
سید علی گیلانی نے 1994 میں دیگر کشمیری رہنماؤں کے ساتھ مل کر آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ 1990 سے 2010 تک انہیں متعدد مرتبہ گرفتار کیا گیا، جبکہ 2010 میں انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
بابائے حریت یکم ستمبر 2021 کو دورانِ اسیری انتقال کر گئے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں نشانِ پاکستان سے بھی نوازا۔



