ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کی ویڈیو بنانے والی خاتون کو سزائے موت

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک دکان میں لگنے والی آگ کی تصاویر اور ویڈیو بنانے والی 43 سالہ خاتون لیلیٰ ابوالحسنی کو سزائے موت سنا دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو بچوں کی ماں لیلیٰ ابوالحسنی کو 8 جنوری کو ایران کے وسطی صوبے اصفہان سے گرفتار کیا گیا تھا جن پر دکان کو آگ لگانے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
ایرانی حکام نے لیلیٰ پر الزام عائد کیا کہ وہ گروسری اسٹور کو آگ لگانے میں ملوث تھیں تاہم ان کے خلاف پیش کیے گئے مبینہ شواہد، عدالتی کارروائی کی مکمل تفصیلات اور ان کے دفاع سے متعلق معلومات تاحال عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
گرفتاری کے بعد لیلیٰ کو اصفہان کی دولت آباد جیل میں رکھا گیا۔ خاتون نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک اوفوغ کوروش سپر مارکیٹ میں لگنے والی آگ کی تصاویر بنائی تھیں۔
ایرانی عدالت نے ان کے خلاف محاربہ کے الزام میں کارروائی کی، جسے عموماً ’’اللہ سے جنگ‘‘ یا ریاست کے خلاف دشمنی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ جس میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اصفہان کی انقلابی عدالت کی شاخ 5 کے جج وحید ہمت نژاد نے لیلیٰ کو پھانسی کی سزا سنائی۔
لیلیٰ ابوالحسنی کا کیس ایران میں جنوری کے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
ایرانی پناہ گزین نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ لیلیٰ کو دراصل مظاہروں کے دوران ہونے والے واقعات کی دستاویز بنانے پر نشانہ بنایا گیا۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ جلتی ہوئی دکان کی تصاویر عالمی سطح پر ایران میں ہونے والے واقعات کی جانب توجہ مبذول کرا سکتی تھیں جس کی وجہ سے حکام نے خاتون کے خلاف سخت کارروائی کی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران میں 19 مارچ کے بعد قومی سلامتی سے متعلق الزامات میں 56 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے جن میں 27 مقدمات کا تعلق جنوری میں ہونے والے مظاہروں سے تھا۔
ترک کے مطابق 100 سے زائد دیگر افراد ایسے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت حقِ زندگی اور انسانی وقار سے مطابقت نہیں رکھتی۔
لیلیٰ ابوالحسنی کی سزا پر حتمی فیصلہ ایران کی سپریم کورٹ میں اپیل کے نتیجے میں ہوگا۔ عدالت کی جانب سے اپیل پر فیصلہ اور مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔



