گریٹ وائٹ شارک کا حملہ، خاتون نے مکے مار کر جان بچالی

ویانا(جانوڈاٹ پی کے)جب کوئی فرد گریٹ وائٹ شارک کے جبڑوں میں پھنسنے والا ہو تو بچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔
مگر آسٹریلیا میں ایک خاتون اس صورتحال میں طاقتور مکوں کی بدولت خود کو بچانے میں کامیاب ہوگئی۔
34 سالہ لیا اسٹیورٹ ایک ٹیچر ہیں جبکہ ان کی ایک سالہ بیٹی بھی ہے۔
13 جون 2026 جو سڈنی کے کوگی بیچ پر یہ خاتون تیر رہی تھیں جب شارک نے ان پر حملہ کیا۔
وہ زندہ تو بچ گئیں مگر 2 ہفتوں سے زائد عرصے تک ان کی حالت نازک رہی اور حملے کے باعث ایک ہاتھ سے بھی محروم ہوگئیں۔
شارک کے حملے کے بعد پہلے میڈیا انٹرویو میں خاتون نے اس لمحے کے بارے میں بتایا جب شارک نے ان پر حملہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ‘میں بہت بلند آواز میں چیخ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ لائف گارڈ میری آواز سن لے گا اور ایک جیٹ اسکائی کسی بھی لمحے آئے گا اور شارک کو بھگا دے گا’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘مگر ایک منٹ گزر گیا اور کوئی بھی میری مدد کے لیے نہیں آیا’۔
لیا اسٹیورٹ نے بتایا کہ شارک قریب آگئی اور میرے چہرے سے محض 30 سینٹی میٹر دور تھی جبکہ اس کی سیاہ آنکھیں ان پر جمی ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا چہرہ خوفناک تھا اور میں کبھی اس کا چہر نہیں بھول سکتی، جب اس نے اپنا منہ کھولنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ وہ سب سے پہلے میرے چہرے پر حملے پر حملہ کرے گی، مجھے خود کوشش کرنا ہوگی اور مکا مارنا ہوگا، میں نے کوشش نہ کی تو اپنے سر سے محروم ہو جاؤں گی’۔
دائیں بازو کا استعمال کرنے والی خاتون نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے بائیں بازو سے زور دار مکا مارا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد کے لمحات سلوموشن جیسے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی ڈائناسور سے لڑ رہی ہیں۔
خاتون نے کہا کہ ‘میں نے خود کو موڑا اور مسلسل مکے مارنا شروع کر دیں گے، وہ بہت بڑی مچھلی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ میں اینٹوں کی دیوار کو مار رہی ہوں’۔
شارک نے ان کے بائیں بازو اور ران کو کاٹ لیا تھا جب ان کے لیے مدد پہنچ گئی۔
وہ ساحل پر پہنچی اور غشی طاری ہو رہی تھی تو وہ یہ سوچ رہی تھیں ‘میں ابھی نہیں مری اور مسلسل ایک سالہ بیٹی کا خیال آرہا تھا’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘مجھے لگ رہا تھا کہ زندگی میرے ہاتھ سے پھسل رہی ہے، ایسا لگ رہا تھا کہ سب کچھ میرے جسم سے نکل رہا ہے اور میں کسی جانب سفر کر رہی ہوں اور ایک سرنگ کے اختتام پر پہنچ چکی ہوں، وہاں میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا، مجھے لگا کہ وہ اپنی ماں کے بغیر بڑی ہوگی’۔
انہوں نے متعدد ہفتے آئی سی یو میں گزارے جو ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں بہت زیادہ چڑچڑی ہوگئی تھی، میری بیٹی مسلسل میری جانب ہاتھ بڑھاتی تاکہ میں اسے اٹھا لوں، میں اسے گود میں لینے کے لیے بے تاب تھی مگر ایسا نہیں کرسکتی تھی’۔
خاتون نے بتایا کہ ‘اب میرا ایک بازو نہیں رہا، مگر میں ہمت نہیں ہار سکتی اور دوسری بار ملنے والی زندگی میں اپنا بہترین ورژن پیش کروں گی’۔



