ٹرمپ کابڑا اعلان،وینزویلا کے تیل سے امریکا کے اسٹریٹجک ذخائر بھرنے کا فیصلہ

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا اور غیرمعمولی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو وینزویلا کے تیل سے دوبارہ بھرے گا اور اس عمل کا آغاز بہت جلد کردیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وینزویلا کے ساتھ ہونے والے حالیہ انتظام کے تحت حاصل ہونے والے تیل کو امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اس تیل کو امریکا کے عوام کے لیے وینزویلا کی جانب سے ایک ’’تحفہ‘‘ بھی قرار دیا۔
امریکا کے خالی ہوتے ذخائر بھرنے کا فیصلہ
رپورٹس کے مطابق امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر گزشتہ برسوں میں مختلف عالمی توانائی بحرانوں اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اب وینزویلا کے تیل کے ذریعے ان ذخائر کو دوبارہ مضبوط بنایا جائے گا، تاہم اس عمل کے مکمل شیڈول اور مقدار کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں کی گئیں۔
وینزویلا کے تیل پر امریکا کی نئی حکمت عملی
یہ اعلان امریکا اور وینزویلا کے درمیان حالیہ بڑے توانائی انتظام کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات اور عالمی توانائی کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس انتظام کے تحت وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور پیداوار میں امریکی کردار بڑھنے کا امکان ہے۔
ٹرمپ نے سرویز پر بھی حملہ کردیا
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں اپنی مقبولیت سے متعلق بعض سرویز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ان سرویز کو جعلی قرار دیتے ہوئے میڈیا پر جانبداری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وفاقی مواصلاتی کمیشن (FCC) کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یوں ایک ہی روز میں ٹرمپ نے نہ صرف وینزویلا کے تیل سے امریکی اسٹریٹجک ذخائر بھرنے کا اعلان کرکے عالمی توانائی کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی بلکہ اپنی مقبولیت سے متعلق سرویز پر بھی کھل کر محاذ کھول دیا۔
اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ وینزویلا کے تیل سے امریکی ذخائر بھرنے کا عمل کب شروع ہوتا ہے اور اس نئی توانائی پالیسی کے عالمی تیل کی مارکیٹ اور امریکا و وینزویلا کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔



