بلاول بھٹو کی منگنی کی خبریں یابڑاراز؟ویانا میں آصف زرداری کی موجودگی نے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی منگنی اور شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے پاکستانی سیاست میں نئی ہلچل مچا دی ہے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو کی شادی ایک یورپی خاندان میں طے ہونے کے حوالے سے آسٹریا میں ملاقاتیں جاری ہیں، تاہم پیپلز پارٹی نے ان خبروں کو غلط اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

قیاس آرائیوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب صدر آصف علی زرداری کے حالیہ نجی دورۂ یورپ کو بلاول بھٹو کی مبینہ شادی سے جوڑا جانے لگا۔ صدرِ مملکت کے دفتر نے 27 اگست کو تصدیق کی تھی کہ آصف زرداری نجی دورے پر بیرون ملک روانہ ہوئے ہیں، تاہم دورے کی منزل یا مقصد کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے آسڑیا کے ایک خاندان سے تین ملاقاتیں بھی کی ہیں،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری خاتون کو کافی عرصے سے جانتے ہیں۔

ویانا میں مبینہ ملاقاتوں کا دعویٰ

بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ویانا میں ایک یورپی خاندان سے ملاقاتوں کے لیے موجود ہیں اور مبینہ طور پر منگنی یا شادی سے متعلق معاملات زیر غور ہیں۔ ایک رپورٹ میں پیپلز پارٹی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بھی ایسے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

سوشل میڈیا پر بعض پوسٹس میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ بلاول بھٹو کی مبینہ ہونے والی شریکِ حیات کا تعلق آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے ہے، جبکہ کچھ رپورٹس میں لیختن اسٹائن کے دارالحکومت وادوز کا حوالہ بھی دیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی باضابطہ اعلان یا قابلِ اعتماد دستاویز سامنے نہیں آئی۔

پیپلز پارٹی نے تمام قیاس آرائیاں مسترد کردیں

دوسری جانب کراچی کے میئر اور بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ بلاول بھٹو کی منگنی یا شادی سے متعلق گردش کرنے والی خبر ’’غلط اور بے بنیاد‘‘ ہے۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق بلاول بھٹو یا ان کے خاندان کی جانب سے نہ کسی منگنی کا اعلان کیا گیا ہے، نہ ہونے والی دلہن کے نام کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی شادی کی کوئی تاریخ بتائی گئی ہے۔

افواہ کیسے پھیلی؟

بلاول بھٹو کی ذاتی زندگی سے متعلق قیاس آرائیاں نئی نہیں ہیں، تاہم اس بار صدر آصف زرداری کے نجی دورۂ یورپ کے باعث سوشل میڈیا پر دعووں نے تیزی سے زور پکڑا۔

بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ صدر زرداری یورپ میں اپنے صاحبزادے کی شادی کے معاملات طے کرنے کے لیے موجود ہیں، جبکہ کچھ پوسٹس میں ممکنہ دلہن کو سابق آسٹریائی شاہی خاندان سے منسلک کیا گیا۔ بعد ازاں متعدد ویب سائٹس نے بھی ان دعوؤں کو رپورٹ کیا، لیکن باضابطہ طور پر ان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

حقیقت کیا ہے؟

اس وقت دستیاب معتبر معلومات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ پیپلز پارٹی کا باضابطہ مؤقف ان خبروں کی تردید ہے، جبکہ ویانا میں مبینہ ملاقاتوں سے متعلق دعوے ابھی تک غیرمصدقہ ہیں۔

یوں بلاول بھٹو کی شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث نے اگرچہ سیاسی اور عوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کرلی ہے، تاہم فی الحال منگنی، دلہن یا شادی کی تاریخ سے متعلق کسی دعوے کو حتمی خبر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button