بدین:حکمران طبقے کی مراعات ختم کرکے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے،عبدالکریم بلیدی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)جماعت اسلامی کے تحت پٹرولیم لیوی حکومتی بھتہ ٹیکس، احتجاجی دھرنے عوام اظہار یکجہتی کرنے کے لیے شادی لارج شہر میں کیمپ لگایا گیا، احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ضلع بدین کے جنرل سیکرٹری عبدالکریم بلیدی نے کہا کہ لیوی ختم کرنے سے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر ہوجائے گی، حکومت عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بجائے معیشت کی بحالی، مہنگائی کے خاتمے اور دہشتگردی سے نجات کے لیے موثر اقدامات کرے عبدالکریم بلیدی نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی حکومتی بھتہ ٹیکس ہے، جس کے خلاف کراچی سمیت چاروں صوبوں میں ہونے والے احتجاجی دھرنے جاری ہیں ۔ حکومت عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے، نت نئے ٹیکس عائد کرنے اور صوبوںکے وسائل پر قبضے کی پالیسی ترک کرے اور معیشت کی بدحالی، سود کی لعنت، دہشتگردی اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے مو ¿ثر اور عملی اقدامات کرے انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی روزمرہ زندگی کی ہر چیز کو مہنگا کر دیتا ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں حکومت کی جانب سے پٹرول پر بھاری لیوی عائد کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور حکمران طبقے کی عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ پٹرولیم لیوی بھی اسی عوام دشمن پالیسی کا حصہ ہے۔ اگر حکومت پٹرولیم لیوی ختم کردے تو پٹرول کی قیمت تقریباً 225 روپے فی لیٹر تک آسکتی ہے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں اور لیوی میں مسلسل اضافہ کرکے قومی خزانے کا بوجھ تو عوام پر منتقل کر رہی ہے، مگر حکمران طبقے کی مراعات، غیر ضروری اخراجات اور عیاشیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام کا خون نچوڑنے میں حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی، یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔جماعت اسلامی ضلع بدین کے نائب امیر غلام رسول احمدانی نے کہا کہ ملکی معیشت کی بدحالی کے باعث عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ غربت، بھوک اور افلاس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جبکہ بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے صرف گاڑی چلانے کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، تجارت اور اشیائے خورونوش سمیت ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ مزید مہنگائی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں مزید کہا کہ ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے حکومت کو عوام کے صبر کا مزید امتحان لینے کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت چاروں صوبوں میں پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج اس بات کا واضح اظہار ہے کہ عوام اب ظالمانہ ٹیکسوں اور معاشی استحصال کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومت احتجاجی آوازوں کو دبانے یا عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے بجائے ان کے مطالبات تسلیم کرے اور فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو زندہ رہنے کا حق دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اس موقع پر تنظیم اساتذہ سندھ کے سکریٹری پروفیسر عبدالحفیظ احمدانی تنظيم اساتذه ضلع بدين کے صدر پروفیسر راوُ اعظم جماعت اسلامی شادی لارج کے امیر محمد سلیم جونیجو .واحد بخش احمدانی .شوکت جٹ شفیع محمد خاصخیلی بھی موجود تھے۔



