ایران نے ٹرمپ کو ترکیہ میں قتل کرنے کی سازش کی تردید کردی

تہران(ویب ڈیسک) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکیہ میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
حزب اللہ کے قریب سمجھے جانے والے المنار نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے دورہ ترکیہ کے دوران انہیں قتل کرنے اور ان کے چھوٹے بیٹے کو نشانہ بنانے سے متعلق افواہیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پھیلائیں۔
محسن رضائی کے مطابق نیتن یاہو نے ایرانی سازش سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلا کر ٹرمپ کو خوفزدہ کیا، جس کے باعث ان کے فیصلہ سازی کے عمل میں خلل پیدا ہوا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران کسی اقدام کا فیصلہ کرلے تو اس پر عمل درآمد کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، تاہم ٹرمپ کے قتل کی سازش سے متعلق خبر نیتن یاہو کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق جولائی میں ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے دوران ٹرمپ کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ ٹرمپ نے خفیہ طور پر متبادل طیارے کے ذریعے امریکا واپسی کا سفر کیا، جبکہ میڈیا اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کو ایئر فورس ون پر روانہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ ایک پیچیدہ سکیورٹی حکمت عملی تھی جس میں ٹرمپ کو ایئر فورس ون میں سوار ہونے کے بعد کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا، تاکہ ان کے اصل سفر کے بارے میں ممکنہ حملہ آوروں کو گمراہ رکھا جاسکے۔
اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام کو انٹیلیجنس اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں ایئر فورس ون پر ایرانی میزائل حملے کے خدشے کا اظہار کیا گیا تھا۔
بعدازاں صدر ٹرمپ نے بھی متبادل طیارے کے استعمال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور اگر سکیورٹی حکام انہیں مختلف طیارے میں سفر کرنے کا کہیں تو انہیں ان کی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے۔



