میٹا کیلئے بڑا جھٹکا! بچوں کو فیس بک، انسٹاگرام کا عادی بنانے کے الزام پر اربوں ڈالر کا معاہدہ

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) سوشل میڈیا کی دنیا میں تہلکہ خیز پیش رفت سامنے آگئی، جہاں میٹا پلیٹ فارمز نے بچوں اور نوجوانوں کو فیس بک اور انسٹاگرام کا عادی بنانے کے الزامات سے متعلق امریکا کی تقریباً تمام ریاستوں کے ساتھ بڑے معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے۔ معاہدے کے تحت کمپنی کو 18 ارب ڈالر تک ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ نوجوان صارفین کیلئے دونوں پلیٹ فارمز کے استعمال کے طریقہ کار میں سخت تبدیلیاں متوقع ہیں۔

امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا کے خلاف دائر مقدمات میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جس سے بچوں اور کم عمر صارفین زیادہ سے زیادہ وقت تک پلیٹ فارم پر مصروف رہیں اور ان میں استعمال کی عادت پیدا ہو۔

میٹا پر اربوں ڈالر کا مالی دباؤ

بدھ کو اعلان کیے گئے معاہدوں کے بعد میٹا کے خلاف وفاقی سطح پر جاری کارروائی ختم ہوگئی۔ تاہم اس معاملے نے کمپنی کے کاروباری طریقہ کار اور بچوں کے تحفظ سے متعلق پالیسیوں پر ایک بار پھر عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔

کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت بعض ریاستیں میٹا سے تقریباً 200 ارب ڈالر تک کے سول جرمانوں کا مطالبہ کرنے کی تیاری کررہی تھیں۔

نئے معاہدے کے بعد میٹا کو ممکنہ طور پر بہت بڑی مالی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم معاہدے کی شرائط کے تحت رقم اور دیگر ذمہ داریوں کی حتمی تفصیلات مختلف ریاستوں کے حساب سے مختلف ہوسکتی ہیں۔

فیس بک اور انسٹاگرام پر نوجوانوں کیلئے سختیاں

اگرچہ اس معاہدے سے میٹا کے بنیادی کاروباری ماڈل میں فوری طور پر کوئی بنیادی تبدیلی متوقع نہیں، لیکن نوجوان صارفین کو فیس بک اور انسٹاگرام کی خدمات فراہم کرنے کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔

کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس، مواد، اشتہارات اور پلیٹ فارم کے استعمال کے حوالے سے مزید حفاظتی اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔

ہزاروں مقدمات کیلئے نیا راستہ کھل گیا؟

ماہرین کے مطابق میٹا اور امریکی ریاستوں کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ انتہائی اہم مثال بن سکتا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف بچوں اور نوجوانوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے سے متعلق ہزاروں مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اگر یہ ماڈل دیگر مقدمات میں بھی اپنایا گیا تو سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوجوان صارفین کی حفاظت سے متعلق اپنی پالیسیوں میں مزید بڑی تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر کریک ڈاؤن

بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد، سائبر بُلنگ اور سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال سے بچانے کیلئے دنیا بھر میں حکومتیں قوانین سخت کررہی ہیں۔

آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والا نمایاں ملک بن چکا ہے، جبکہ دیگر ممالک میں بھی کم عمر صارفین کیلئے عمر کی تصدیق اور والدین کی نگرانی جیسے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔

’مقصد بچوں کا تحفظ تھا‘

کولوراڈو کے اٹارنی جنرل فل ویزر نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کا بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ تھا۔ ان کے مطابق معاہدے کے ذریعے حاصل ہونے والی مراعات اور حفاظتی اقدامات انتہائی اہم ہیں اور بعض صورتوں میں عدالت کی جانب سے عائد کیے جانے والے ممکنہ احکامات سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

میٹا کیلئے یہ معاہدہ اگرچہ فوری طور پر کمپنی کے پورے کاروباری ماڈل کو تبدیل نہیں کرتا، لیکن اربوں ڈالر کی ممکنہ ادائیگی، نوجوان صارفین پر نئی پابندیاں اور دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے قانونی دباؤ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button