نیپال میں زمین ہلانے والا پراسرار واقعہ، زلزلہ نہیں تھا! امریکی ادارے نے اصل وجہ بتادی

کھٹمنڈو (جانو ڈاٹ پی کے) نیپال میں بدھ کی صبح زمین لرزا دینے والے شدید جھٹکوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، ابتدائی طور پر امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے اسے 4.4 شدت کا زلزلہ قرار دیا، تاہم بعد کی وضاحت نے معاملے کو یکسر نیا رخ دے دیا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق نیپال اور چین کی سرحد کے قریب محسوس کیے جانے والے یہ شدید جھٹکے زلزلہ نہیں بلکہ غیر معمولی طور پر طاقتور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیدا ہوئے تھے۔

زلزلہ سمجھ کر لوگ گھروں سے نکل آئے، مگر حقیقت کچھ اور نکلی

رپورٹ کے مطابق صبح تقریباً 8 بج کر 37 منٹ پر دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمالی علاقے میں زمین میں شدید لرزش محسوس کی گئی۔ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر اسے 4.4 شدت کا زلزلہ سمجھا گیا، لیکن مزید تجزیے کے بعد USGS نے اپنی ابتدائی تشخیص کی وضاحت کردی۔

امریکی ادارے کے مطابق پہاڑی ڈھلوان سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ اچانک نیچے آ گرا، جس کے نتیجے میں زمین میں ایسی طاقتور لرزش پیدا ہوئی جو زلزلے سے مشابہ محسوس ہوئی۔

5.2 شدت کے زلزلے جیسی لرزش!

USGS کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والی توانائی اتنی زیادہ تھی کہ اس کی لرزش 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر مٹی، چٹانوں اور برف کا اچانک حرکت کرنا زمین میں شدید توانائی پیدا کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں اردگرد موجود افراد کو زلزلے جیسی جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

تاہم اس عمل میں زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت شامل نہیں ہوتی، اس لیے اسے حقیقی زلزلہ قرار نہیں دیا جاتا۔

تودہ دریا میں گرا، خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے دوران برف اور چٹانوں کا بڑا ملبہ پہاڑی ڈھلوان سے نیچے گرتے ہوئے لھینڈے کھولا دریا میں جاگرا۔

یہ دریا آگے چل کر بھوٹے کوشی دریا سے ملتا ہے، جو چین سے نیپال کی جانب بہتا ہے اور کئی مقامات پر انتہائی گہری وادیوں سے گزرتا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں اس نوعیت کی بڑی لینڈ سلائیڈنگ نہ صرف زمین میں شدید لرزش پیدا کرسکتی ہے بلکہ دریاؤں کا بہاؤ بھی متاثر کرسکتی ہے، جس سے اچانک سیلاب اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سیلاب پہلے ہی تباہی مچا رہے ہیں

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیپال کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے۔

پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث زمین کے کھسکنے اور دریاؤں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ ایسے میں ماہرین اور حکام کی جانب سے پہاڑی آبادیوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ خطرناک علاقوں میں نقل و حرکت محدود رکھنے پر زور دیا جارہا ہے۔

زلزلہ نہیں، قدرت کا ایک اور خوفناک وار!

نیپال میں محسوس ہونے والے جھٹکوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کردی ہے کہ قدرتی آفات صرف زلزلوں تک محدود نہیں۔ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک سیلاب مل کر ایسے حالات پیدا کرسکتے ہیں جن میں چند لمحوں میں پورا علاقہ خطرے کی زد میں آسکتا ہے۔

USGS کی وضاحت کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگئی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں جاری شدید بارشوں کے دوران مزید لینڈ سلائیڈنگ یا سیلاب کے خطرے سے کیسے نمٹا جائے اور مقامی آبادی کو بروقت خبردار کرنے کیلئے ابتدائی وارننگ سسٹم کو کس طرح مؤثر بنایا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button