گولارچی میں میلاد النبی ﷺ کی تین پروقار تقریبات، شہر درود و سلام سے گونج اٹھا

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ  پی کے)گولارچی میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تین الگ الگ پروقار تقریبات، ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ کی شرکت تفصیل کے مطابق جشنِ عید میلاد النبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سلسلے میں گولارچی میں 12 ربیع الاول کے موقع پر تین الگ الگ پروقار پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں مرکزی ریلی، خصوصی مذہبی خطاب اور منفرد ٹریکٹر ریلی شامل تھی۔ مختلف پروگراموں میں ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کرکے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا مرکزی جامع مسجد عثمانیہ سے جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں مرکزی ریلی سخت سکیورٹی انتظامات میں نکالی گئی، جس میں شہریوں، مذہبی شخصیات اور عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ریلی کی قیادت جماعتِ اہلِ سنت کے رہنماؤں سائیں غلام رسول سمیجو نعیمی، سائیں حاجی سلیم میمن، سائیں غلام علی جت نعیمی، نور احمد جت اور کرمی نے کی۔ شرکاء نے درود و سلام اور نعروں کے ذریعے بارگاہِ رسالت ﷺ میں اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

دوسری جانب جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی پروگرام میں سائیں مولانا محمد مٹھل، مولانا شجاعت علی اویسی، سائیں غلام علی کر نعیمی اور سائیں احمد علی شاہ کھورواہ والے نے خصوصی خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، عشقِ رسول ﷺ اور مذہبی عقائد کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر مقررین نے حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ توہینِ رسالت ﷺ سے متعلق قانون 295-C میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی کوشش کی گئی تو اہلِ سنت عوام احتجاج کے لیے تیار ہیں۔

علاوہ ازیں گولارچی میں اپنی نوعیت کی منفرد ٹریکٹر ریلی بھی نکالی گئی، جس میں پانچ سو سے زائد ٹریکٹرز نے شرکت کی۔ ٹریکٹر ریلی گولارچی سے کڑیو گھنور ہوتی ہوئی کھورواہ تک پہنچی۔ راستے میں مختلف مقامات پر شہریوں نے ریلی کے شرکاء کا والہانہ استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

گولارچی سے کھورواہ تک سڑکوں پر جشنِ میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے مذہبی جوش و جذبہ نمایاں رہا، جبکہ ٹریکٹر ریلی کے شرکاء نے درود و سلام اور نعروں کے ذریعے اپنی محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کیا۔

گولارچی پولیس کی جانب سے تینوں پروگراموں اور ریلیوں کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات رہے، جبکہ تمام پروگرام پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئے

مزید خبریں

Back to top button