احساس کفالت پروگرام کے مستحقین سے ایک ہزار روپے کمیشن لینے کا الزام، 2 ملزمان کی ضمانت منظور

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے احساس کفالت پروگرام کے مستحقین سے رقم جاری کرنے کے عوض ایک ہزار روپے کمیشن لینے کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے محمد اختر اور محمد انصر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ مزید تحقیقات کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ملزمان کا جرم میں کردار ٹرائل کورٹ شہادتیں ریکارڈ ہونے کے بعد طے کرے گی۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر شواہد کا گہرا جائزہ لے کر ملزمان کی گنہگاری یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف ایف آئی اے تھانہ ڈیرہ غازی خان میں 4 جولائی 2026 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 409، 420 اور 109 شامل کی گئی تھیں۔ ملزمان پر الزام تھا کہ وہ احساس کفالت پروگرام کے مستحقین کو رقوم جاری کرنے کے عوض مختلف رقوم وصول کرتے، ایچ بی ایل کنیکٹ بائیومیٹرک ڈیوائس اور موبائل فون استعمال کرتے جبکہ مستحقین کے شناختی کارڈ بھی اپنے پاس رکھتے تھے۔
دوران سماعت ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر اور تفتیشی مواد سے ملزمان پر ایسی رقم میں خیانت کا الزام ثابت نہیں ہوتا جو مستحقین نے انہیں امانت کے طور پر سپرد کی ہو۔
عدالت نے ایف آئی آر کے متن کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ بنیادی الزام یہ ہے کہ ملزمان احساس کفالت پروگرام کی رقم مستحقین کو ادا کرتے وقت اس میں سے ایک ہزار روپے وصول کر رہے تھے۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے اہم قانونی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی شخص کو رقم بطور امانت سپرد ہی نہ کی گئی ہو اور الزام صرف یہ ہو کہ اس نے کسی شخص کو اس کی رقم دیتے وقت اس میں سے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لی، تو بادی النظر میں یہ عمل خیانتِ مجرمانہ کے بجائے دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مستحقین کو پروگرام کی رقم میں سے ایک ہزار روپے کمیشن کے طور پر لیے، تاہم یہ الزام نہیں کہ مستحقین نے اپنی رقم ملزمان کے سپرد کی اور انہوں نے اسے بددیانتی سے ہڑپ کیا۔ ایسی صورتحال میں معاملہ دھوکہ دہی کا بنتا ہے، خیانتِ مجرمانہ کا نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ شیڈول دوم ضابطہ فوجداری کے تحت دھوکہ دہی قابلِ ضمانت نوعیت کا جرم ہے، جبکہ تفتیشی افسر کی جانب سے خیانتِ مجرمانہ کی دفعہ 409 شامل کرکے دھوکہ دہی کے الزام کو اس دفعہ کے دائرے میں لانے کی کوشش بادی النظر میں ایف آئی آر کے بیانیے اور گواہوں کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
عدالت کے مطابق ملزمان کے فرار ہونے یا گواہوں پر اثرانداز ہونے کا کوئی الزام نہیں، جبکہ مقدمے کا متعلقہ ریکارڈ اور تفتیشی شواہد پہلے ہی استغاثہ کے قبضے میں ہیں، اس لیے شواہد میں ردوبدل کا بھی کوئی خدشہ نہیں۔
فیصلے میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ضمانت کو سزا کے طور پر روکا نہیں جا سکتا اور ضمانت کے مرحلے پر عدالت کو شواہد کا گہرا جائزہ لے کر ابتدائی ٹرائل سے گریز کرنا چاہیے۔ ملزمان کے جرم یا بے گناہی کا حتمی تعین ٹرائل کے دوران شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے دونوں ملزمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں ایک، ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور دو، دو ضامن پیش کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں دی گئی تمام آبزرویشنز صرف ضمانت کی درخواست تک محدود اور عارضی نوعیت کی ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ شواہد اور قانون کے مطابق آزادانہ طور پر کرے گی۔



