شادی کی تقریب کیلئے لی گئی گاڑی واپس نہ کرنے کا کیس، ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے شادی کی تقریب کے لیے گاڑی لے کر واپس نہ کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس محمد امجد پرویز نے قرار دیا کہ ایک بار مجاز عدالت سے ضمانت منظور ہوجائے تو اسے منسوخ کرنے کے لیے مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہے۔ ضمانت منسوخی کے مرحلے پر عدالت اسی وقت مداخلت کرسکتی ہے جب ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو، یا ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔

عدالت کے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کے مطابق معاملہ تھانہ مزنگ لاہور میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 کے تحت درج مقدمے سے متعلق تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے 28 نومبر 2025 کو شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے 10 روز کے لیے گاڑی حاصل کی، تاہم بعد ازاں گاڑی واپس نہ کی اور بالآخر واپسی سے انکار کردیا۔

ملزم کو ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے 30 جون 2026 کو قبل از گرفتاری ضمانت دی تھی، جس کے خلاف شہری مسعود اسلم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جسٹس امجد پرویز نے قرار دیا کہ گاڑی دینے کے بعد فوری طور پر مقدمہ درج نہیں کرایا گیا بلکہ 6 ماہ سے زائد عرصے بعد مئی 2026 میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ عدالت کے مطابق یہ مقدمہ سول کارروائی میں درخواست گزار کی جانب سے 11 مئی 2026 کو تحریری جواب جمع کرانے کے بعد درج ہوا، جس سے مقدمے کے اندراج میں تاخیر کے حوالے سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت نے اس تاخیر کو قانونی مشاورت اور غور و خوض کے تناظر میں دیکھا اور یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ سول مقدمے کے ردعمل میں فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہو، جبکہ درخواست گزار کی بدنیتی یا کسی پوشیدہ مقصد کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ ضمانت منظور کرنے اور پہلے سے منظور شدہ ضمانت منسوخ کرنے کے اصول مختلف ہیں۔ ضمانت منسوخی کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا واضح طور پر غلط تھا، ملزم نے ضمانت کا غلط استعمال کیا، گواہوں پر دباؤ ڈالا، تفتیش میں مداخلت کی، عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار کا خدشہ ہو یا کوئی نیا مواد سامنے آیا ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ظاہر کرتا ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے وکیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ضمانت منسوخی کے لیے مقررہ قانونی بنیادوں میں سے کوئی بنیاد اس مقدمے میں موجود ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج کا ضمانت دینے کا حکم نہ بادی النظر میں غلط تھا اور نہ ہی حقائق یا قانونی اصولوں کے منافی۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کردیا۔

مزید خبریں

Back to top button