بحران کوئی بھی ہو، انسانیت سب سے مقدم؛ آج عالمی ہیومینیٹرین ڈے منایا جا رہا ہے

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) دنیا بھر میں آج عالمی ہیومینیٹرین ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد جنگوں، قدرتی آفات، بھوک، بیماری اور بے گھری جیسے بحرانوں میں متاثرہ انسانوں تک امداد پہنچانے والے لاکھوں امدادی کارکنوں اور رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
انسانی ہمدردی کے کارکن بحران کی ہر گھڑی میں متاثرین تک خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات پہنچانے کے لیے اپنی جانیں بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ جنگ ہو یا زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، مشکل حالات میں متاثرہ افراد کے لیے امدادی کارکن امید کی پہلی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔
عالمی ہیومینیٹرین ڈے ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت 19 اگست 2003 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے دفتر پر ہونے والے بم حملے سے ہے، جس میں 22 امدادی کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔ اس سانحے کی یاد میں یہ دن انسانی خدمت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
دنیا کو اس وقت جنگوں، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، بے گھری اور خوراک کے بحران سمیت متعدد بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکن صرف بنیادی ضروریات ہی نہیں پہنچاتے بلکہ متاثرہ افراد میں امید اور حوصلہ بھی پیدا کرتے ہیں۔
عالمی ہیومینیٹرین ڈے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ بحران کوئی بھی ہو، انسانیت سب سے مقدم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور دنیا بھر میں ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی بروقت اور مؤثر رسائی مزید بہتر بنائی جائے۔
انسانیت کی خدمت کرنے والے امدادی کارکن دنیا بھر کے لیے امید کی علامت ہیں اور بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں کے پیش نظر ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔



