45لاکھ ایکٹرفٹ پانی ذخیرہ،298ارب لاگت،دریائے چناب پرپنجاب میں4ڈیمز،سندھ میں تھرتھلی،ڈیٹامانگ لیا
وزیرا آباد،مڈھ رانجھا،چنیوٹ اور شاہ جیونہ پر ڈیم بنیں گے!

لاہور (سپیشل رپورٹ:جانوڈاٹ پی کے)دریائے چناب پر مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے چار نئے کم اونچائی والے ڈیمز تعمیر کرنے کی تجویز سامنے آگئی، واپڈا نے منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی پر کام شروع کردیا ہے، جبکہ سندھ حکومت نے منصوبے کے ماحولیاتی اثرات، زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر ممکنہ اثرات سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کرلی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کا بنیادی مقصد مون سون کے دوران دریائے چناب میں آنے والے اضافی پانی اور سیلابی ریلوں کو ضائع ہونے سے بچانا اور اسے ذخیرہ کرکے خشک سالی یا پانی کی قلت کے دوران استعمال کرنا ہے۔ چاروں مجوزہ ڈیمز کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 45 لاکھ ایکڑ فٹ بتائی گئی ہے، جبکہ ان کی تعمیر پر ابتدائی طور پر تقریباً 298 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
چار مقامات پر ڈیمز تعمیر کرنے کی تجویز
واپڈا کی جانب سے دریائے چناب پر جن چار مقامات پر ڈیمز تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ان میں وزیرآباد، مڈھ رانجھا، چنیوٹ اور شاہ جیونہ شامل ہیں۔
مجوزہ ڈیمز نسبتاً کم اونچائی کے ہوں گے اور ان کا مقصد بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیلابی پانی کے انتظام کو بہتر بنانا بھی ہوگا۔ منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد تکنیکی، مالی، ماحولیاتی اور آبی اثرات کا تفصیلی جائزہ لے کر آئندہ کے مراحل طے کیے جائیں گے۔
سندھ نے واپڈا سے مکمل ریکارڈ مانگ لیا
دریائے چناب پر مجوزہ ڈیمز کے معاملے پر سندھ حکومت نے واپڈا سے فزیبلیٹی اسٹڈیز، پی سی ون دستاویزات اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا سمیت منصوبے سے متعلق اہم تکنیکی معلومات طلب کرلی ہیں۔
سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ چناب پر نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیے بغیر منصوبے کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ صوبائی حکومت نے بالخصوص اس بات پر زور دیا ہے کہ منصوبے سے زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ، ماحولیاتی نظام اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر پڑنے والے اثرات کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
سندھ کا کہنا ہے کہ اب تک چناب ڈیمز کے حوالے سے تمام ضروری تکنیکی ڈیٹا، پیرامیٹرز اور تفصیلی مطالعات فراہم نہیں کیے گئے۔ اس لیے منصوبے کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے مکمل معلومات ضروری ہیں۔
واپڈا کا سندھ کو ڈیٹا فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار
دوسری جانب واپڈا نے دستیاب مطالعات اور متعلقہ دستاویزات سندھ حکومت کے ساتھ شیئر کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ اس اقدام سے توقع کی جارہی ہے کہ مجوزہ ڈیمز کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے درمیان موجود تحفظات کو تکنیکی معلومات اور باہمی مشاورت کے ذریعے دور کرنے میں مدد ملے گی۔
کوٹری بیراج کے نیچے پانی کا معاملہ پھر زیر بحث
مجوزہ چناب ڈیمز کے معاملے میں کوٹری بیراج سے نیچے پانی کے بہاؤ کا مسئلہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔واپڈا کے مطابق دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تکمیل کے بعد کوٹری سے نیچے جانے والے پانی کی ضرورت مزید کم ہوجائے گی۔ تاہم سندھ حکومت اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی اور اس کا کہنا ہے کہ کوٹری بیراج سے نیچے پہلے ہی پانی کا بہاؤ کم ہورہا ہے، جس کے نتیجے میں زیریں سندھ اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سندھ حکومت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ 2022 اور 2025 کے غیر معمولی سیلابی سالوں میں آنے والے پانی کے اعداد و شمار کو معمول کے پانی کی دستیابی کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ صوبائی مؤقف کے مطابق کسی بھی نئے آبی ذخیرے کی منصوبہ بندی کے لیے طویل المدتی اور قابلِ اعتماد ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے پر اہم سوالات
مجوزہ چار ڈیمز سے جہاں مون سون اور سیلابی پانی کو محفوظ کرکے مستقبل میں پانی کی قلت کے دوران استعمال کرنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے، وہیں سندھ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے منصوبے کے ماحولیاتی اور زیریں بہاؤ کے اثرات کو بھی اہم بحث بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فزیبلیٹی اسٹڈی کے دوران یہ جانچنا ضروری ہوگا کہ چاروں ڈیمز کی تعمیر سے دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ، زرعی ضروریات، زیرِ زمین پانی، آبی حیات اور دریائے سندھ میں پہنچنے والے پانی پر کیا اثر پڑے گا۔
حتمی فیصلے سے قبل منصوبے کی لاگت، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، سیلابی پانی کی دستیابی، ماحولیاتی اثرات اور زیریں علاقوں کی پانی کی ضروریات سمیت تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
یوں 298 ارب روپے کی لاگت سے 45 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے چار مجوزہ چناب ڈیمز پاکستان کے آبی بحران، سیلابی پانی کے انتظام اور صوبائی آبی مفادات کے حوالے سے ایک اہم منصوبہ بن سکتے ہیں، تاہم منصوبے کی حتمی منظوری سے قبل تکنیکی اور ماحولیاتی معاملات پر وفاق اور سندھ کے درمیان اتفاقِ رائے بنیادی اہمیت رکھتا ہے



