مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، بحری اتحاد کو آپریشنل بنانے کیلئے تیار ہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کمرشل جہازوں پر حملے اور آزادانہ بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنا قابل مذمت ہے، پاکستان سعودی قیادت میں بحری سکیورٹی اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کے لیے تیار ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ رواں ہفتے کی اہم پیش رفت 7 اگست کا مکہ معاہدہ ہے، جو خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کی سکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ تمام چینلز استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے ثالثی کے حوالے سے پُرامید ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بات چیت جاری ہے۔
باب المندب حملہ، 3 پاکستانی شہید
باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ واقعے میں 3 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن کی میتیں پاکستان لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمندری تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر یقین رکھتا ہے اور واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے سعودی حکام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے رابطے میں ہے۔
بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر توجہ دینی چاہیے
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو آزاد کشمیر پر تبصرے کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان پروگرام میں شامل ہے اور کامیابی سے 3 جائزے مکمل کرچکا ہے۔
مکہ معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت پر فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مکہ معاہدہ اوپن ہے تاہم اس میں نئے ممالک کی شمولیت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے فورمز بھی کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، تاہم انہیں دورے کے دوران کسی خصوصی پیغام کا علم نہیں۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرچکا ہے۔ اگرچہ اس پر مکمل عملدرآمد شاید نہ ہوسکا ہو، تاہم امن کے لیے بنیادی فریم ورک اب بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جاسکتی ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
مکہ معاہدے پر ریاستی اداروں میں اختلاف کی تردید
مکہ معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ وزیراعظم نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس معاہدے پر دستخط کیے، اس لیے کسی متعلقہ ادارے کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
طاہر حسین اندرابی نے مکہ معاہدے پر ریاستی اداروں کے درمیان اختلاف رائے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کے اداروں میں اختلافات سے متعلق پروپیگنڈا ایک ہمسایہ ملک کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔



