باسمتی پر بھارت کی اجارہ داری کی کوشش ناکام، پاکستان نے آسٹریلیا میں بڑی قانونی جنگ جیت لی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) باسمتی چاول کے نام پر بھارت کی مبینہ اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کو بڑا دھچکا لگ گیا، آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے اپیڈا (APEDA) کی اپیل مسترد کردی اور لفظ ’’باسمتی‘‘ کے ٹریڈ مارک سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کو تقویت مل گئی۔

وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے اپیڈا کی جانب سے دائر کردہ اپیل خارج کرتے ہوئے اسے فریقِ مخالف کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ پاکستان کے لیے اس فیصلے کو باسمتی چاول کے تاریخی، جغرافیائی اور تجارتی حقوق کے حوالے سے اہم قانونی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

بھارت کی درخواست کو بڑا جھٹکا

وزارتِ تجارت کے مطابق بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں لفظ ’’باسمتی‘‘ کو بطور ٹریڈ مارک رجسٹر کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے2022میں بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔

بھارتی ادارے نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، مگر اب آسٹریلوی وفاقی عدالت نے بھی اپیل مسترد کردی، جس کے بعد بھارت کی جانب سے باسمتی نام پر خصوصی تجارتی حق حاصل کرنے کی کوشش کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔

آسٹریلیا نے پاکستان کا حق تسلیم کرلیا

پاکستانی وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی حکام پہلے ہی اس امر کو تسلیم کرچکے ہیں کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی تاجر اور برآمد کنندگان بھی آسٹریلیا میں اپنے چاول کے لیے ’’باسمتی‘‘ کا نام استعمال کرسکتے ہیں۔وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ تازہ عدالتی فیصلے سے باسمتی چاول پر پاکستان کے تاریخی اور جغرافیائی حق کو مزید تقویت ملی ہے۔

باسمتی کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں

وزارتِ تجارت کے مطابق باسمتی کی پیداوار کا تاریخی طور پر تسلیم شدہ خطہ پاکستان اور بھارت کے علاقوں پر مشتمل ہے، اس لیے کوئی ایک ملک یا ادارہ باسمتی کے نام پر اجارہ دارانہ حق کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

حکام کے مطابق آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ اسی اصولی مؤقف کی توثیق کرتا ہے اور پاکستانی باسمتی کو عالمی منڈی میں اپنی شناخت کے ساتھ پیش کرنے کے حق کو مضبوط بناتا ہے۔

پاکستانی کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے بڑی کامیابی

وزارتِ تجارت نے آسٹریلوی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے باسمتی کاشتکاروں، ملرز اور برآمد کنندگان کے لیے اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق فیصلے سے پاکستانی باسمتی کے تجارتی اور دانشورانہ املاک سے متعلق حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی، جبکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو آسٹریلیا میں مستند پاکستانی باسمتی کی مارکیٹنگ جاری رکھنے کا حق حاصل رہے گا۔

عالمی مارکیٹ میں پاکستانی باسمتی کی شناخت مضبوط

باسمتی چاول پاکستان کی اہم زرعی اور برآمدی مصنوعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی عالمی مارکیٹ میں خصوصی شناخت ہے۔ ایسے میں ’’باسمتی‘‘ نام پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری کی کوشش پاکستانی کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے لیے بڑے تجارتی نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔

آسٹریلوی وفاقی عدالت کے تازہ فیصلے نے نہ صرف بھارتی ادارے کی اپیل کو مسترد کردیا بلکہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی تقویت دی ہے کہ باسمتی ایک مشترکہ تاریخی و جغرافیائی ورثہ ہے، جس پر کسی ایک ملک یا ادارے کی اجارہ داری قائم نہیں کی جاسکتی۔

پاکستانی وزارتِ تجارت کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر پاکستانی باسمتی کی شناخت، تجارتی حقوق اور برآمدی مفادات کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے

مزید خبریں

Back to top button