عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کا معاملہ، بیرسٹر سلمان صفدر کے تحریری دلائل جمع

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے کیس میں عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے 19 صفحات پر مشتمل تحریری دلائل عدالت میں جمع کرا دیے۔
تحریری دلائل میں بیرسٹر سلمان صفدر نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
وکیل نے عدالت سے حقائق کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی معاون، لوکل کمیشن یا فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیشن عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرے، صورتحال کا جائزہ لے اور اس حوالے سے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
تحریری دلائل میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں طلب کرکے قیدِ تنہائی سے متعلق ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ایسا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ماہرین، ریاست اور درخواست گزاروں کے نمائندے شامل ہوں۔ بورڈ سینٹرل جیل اڈیالہ کا دورہ کرکے وہاں دستیاب سہولیات اور متعلقہ ریکارڈ کا معائنہ کرے اور قیدیوں کو تنہائی میں رکھنے کے معاملے پر آزادانہ رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
تحریری دلائل میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قیدیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی سہولت کا حوالہ دیتے ہوئے استدعا کی گئی کہ یہی سہولت عمران خان کو بھی فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کتابیں اور ٹی وی فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کے وکلا 300 سے زائد مقدمات میں ان کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس لیے جیل رولز کے مطابق قانونی ٹیم کو بلا رکاوٹ ملاقات کی اجازت دی جائے۔
تحریری دلائل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیل قواعد کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اہلِ خانہ اور دوستوں سے ہفتہ وار ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں، جبکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی جائے کہ ملاقاتوں میں غیر ضروری پابندی یا رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
وکیل نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹس اور مکمل طبی ریکارڈ بھی عدالت اور قانونی ٹیم کو فراہم کرنے کی استدعا کی ہے، جبکہ تحریری دلائل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے زیرِ سماعت تمام مقدمات کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔
تحریری دلائل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے نامکمل رپورٹ پیش کی۔ وکیل کے مطابق ڈیڑھ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں قیدِ تنہائی سے متعلق تمام اہم خدشات اور مسائل کا احاطہ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نقل و حرکت کو بلا روک ٹوک قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ دونوں قیدیوں کو اپنے مخصوص احاطے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سے تحریری دلائل طلب کیے تھے، جس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے 19 صفحات پر مشتمل تحریری دلائل عدالت میں جمع کرائے ہیں۔



