عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد، عدالت نے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی مبینہ جعلی ویڈیو سے متعلق کیس میں لاہور کی سیشن کورٹ نے ان کی ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کردی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عظمیٰ بخاری آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔ انہوں نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ صوبائی وزیر ہیں اور انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے، جبکہ احاطہ عدالت میں فائرنگ کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
دوسری جانب فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ عظمیٰ بخاری مقدمے کی مدعیہ ہیں، اس لیے انہیں عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرانا چاہیے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عظمیٰ بخاری کی درخواست خارج کردی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کردی۔



